براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 175
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 175 مرحومہ کے ساتھ بخل کیا اور اس دعا کو بھول گیا جو آپ ہی سکھلائی تھی اھدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت وو 110 علیهم (الفاتحہ : 6-7)۔پھر حضرت مرزا صاحب اس کی مثالیں دے کر واضح فرماتے ہیں: جس دل پر در حقیقت آفتاب وحی الہی تجلی فرماتا ہے اس کے ساتھ ظن اور شک کی تاریکی ہر گز نہیں رہتی۔کیا خالص نور کے ساتھ ظلمت رہ سکتی ہے۔پھر جس حالت میں موسیٰ کی ماں کو بھی یقینی الہام ہو ا جس پر پورا یقین رکھ کر اس نے اپنے بچہ کو معرض ہلاکت میں ڈال دیا اور خدا تعالیٰ کے نزدیک بجرم اقدام قتل مجرم نہ ہوئی تو کیا یہ امت اسرائیل کے خاندان کی عورتوں سے بھی گئی گذری ہے اور پھر اسی طرح مریم کو بھی یقینی الہام ہو اجس پر بھروسہ کر کے اس نے قوم کی کچھ پرواہ نہیں کی توحیف ہے اس امت مخذول پر جو ان عورتوں سے بھی کم تر ہے۔پس اس صورت میں یہ امت خیر الامم کا ہے کو ہوئی بلکہ شر الامم اور اجہل الامم ہوئی۔اسی طرح خضر جو نبی نہیں تھا اور اسے علم لدنی دیا گیا تو کیا اگر اس کا الہام ظنی تھا یقینی نہیں تھا تو کیوں اس نے ناحق ایک بچہ کو قتل کر دیا۔اور اگر صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہ الہام کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینا چاہئے یقینی اور قطعی نہ تھاتو کیوں انہوں نے اس پر عمل کیا۔پس اگر ایک شخص اپنی نابینائی سے میری وحی سے منکر ہے تاہم اگر وہ مسلمان کہلاتا ہے اور پوشیدہ دہریہ نہیں تو اس کے ایمان میں یہ بات داخل ہونی چاہئے کہ یقینی قطعی مکالمہ الہیہ ہو سکتا ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ کی وحی یقینی پہلی امتوں میں اکثر مر دوں اور عورتوں کو ہوتی رہی ہے اور وہ نبی بھی نہ تھے اس امت میں بھی اس یقینی اور قطعی وحی کا وجو د ضروری ہے۔تا یہ امت بجائے افضل الا م ہونے کے احقر الامم نہ ٹھہر جائے۔سو خدا نے آخری زمانہ میں اکمل اور اتم طور پر یہ نمونہ دکھایا۔اس طرح براہین احمدیہ میں یوپی سنی Ubicni اور کینن میلکم میکال Cannon Malcom(1831-1907)112 کے اگست 1881 کے کن ٹم پریری ریویو (لندن) 1881 Contemparary Review Aug کے صفحہ 268 پر تحریر کردہ خیال Spiritual power of Islam, Begins and ends with Mohammad” کی تردید 1880-1884 میں شائع ہونے والی کتاب میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے ہاتھوں یہ تائید ایزدی ساتھ کے ساتھ کر دی گئی اگر چہ یہ امور حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں ان لوگوں کے حوالے سے پیش نہیں ہوئے تھے۔لیکن چونکہ پادریوں، پنڈتوں، برہموؤں وغیرہ کی نوک زبان یہ باتیں اور ان ہی کے رد میں اور ان اعتراضوں کو کامل شکل میں پیش نظر رکھ کر حضرت مرزا صاحب نے موقف اسلام بحیثیت مامور من اللہ پیش فرمایا۔جس کا ذکر تفصیل کے ساتھ تقابلی موازنہ عام و خصوصی میں کر دیا گیا ہے۔اس کی ایک جھلک کتاب زیر نظر میں پیرا نمبر 11-6 کے تحت اعجاز قرآن ” اور “ اعجاز اثر قرآن ملاحظہ ہوں۔حوالہ جات و 111 113 6-2۔1 1 - کن ٹم پوریری ریویو بابت ماہ اگست ۱۸۸۱ء صفحه ۲۷۸ 2- The August Contemporary Review page 278۔۔۔1881