براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 165
165 براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام اب جو شخص منصفانہ طور پر بحث کرنا چاہتا ہے۔اس پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ قرآن شریف کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے ایسی کتاب کا پیش کرناضروری ہے جس میں وہی خوبیاں پائی جائیں جو اس میں پائی جاتی ہیں۔سچ ہے کہ وید میں شاعرانہ تلازمات پائے جاتے ہیں اور شاعروں کی طرح انواع اقسام کے استعارات بھی موجود ہیں۔مثلا رگ وید میں ایک جگہ آگ کو ایک دولتمند فرض کر لیا ہے جس کے پاس بہت سے جو اہرات ہیں اور اس کی روشنی کو جو ہر تاباں سے تشبیہ دی ہے۔بعض جگہ اس کو ایک سپہ سالار مقرر کیا ہے جس کی کالی جھنڈی ہے۔اور دھوئیں کو جو آگ پر اٹھتا ہے ایک علم سیہ ٹھہر الیا ہے۔ایک جگہ اس حرارت کو جو بخارات مائی کو اُٹھاتی ہے چور مقرر کیا ہے اور اس کا نام بلحاظ قوت ماسکہ ور ترار کھا ہے اور بخارات کو گوئین ٹھہرایا ہے اور اندر جس سے وید میں آسمان کا فضا اور خاص کر کے گرو زمہریر مراد ہے۔اس کو اس مثال میں قصاب سے تشبیہ دی ہے۔اور لکھا ہے کہ جس طرح قصاب گائے کے گوشت کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے۔اسی طرح اندر نے ور ترا کے سر پر ایسا ہجر مارا جو اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور پانی قطرہ قطرہ ہو کر بہ نکلا لیکن ظاہر ہے کہ اس قسم کے تلازمات کو قرآن شریف سے کچھ بھی نسبت نہیں صرف شاعرانہ خیالات ہیں اور پھر بھی ایسے قابل تعریف و باوقعت نہیں بلکہ اکثر مقامات سخت نکتہ چینی کے لائق ہیں۔مثلاً استعارہ مذکورہ بالا جس میں اندر کو ایک بوچڑ سے تشبیہ دی ہے۔جس کا کام گائے کا گوشت فروخت کرنا ہے۔یہ ایک ایسا مضمون ہے کہ جو لطیف طبع شاعروں کے کلام میں ہر گز نہیں آسکتا۔کیونکہ شاعر کو یہ بھی خیال کر لینا لازم ہے کہ میرے اس مضمون سے عام لوگ کراہت تو نہیں کریں گے۔مگر اس شرقی میں یہ خیال نظر انداز ہو گیا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ ہندو لوگ جو دید کے مخاطب ہیں وہ گائے کے گوشت کا نام سننے سے متنفر ہیں اور ان کی طبیعتوں پر ایسا ذ کر سخت گراں گذرتا ہے۔اور پھر اندر کو جو وید میں ایک بزرگ دیو تا مقرر ہو چکا ہے بوچڑ سے تشبیہ دینا اور بعد بزرگ قرار دینے کے پھر اس کی ہجو ملیح کر ناشائستگی کلام سے بعید اور ایک طرح کی بے ادبی ہے۔ماسوا اس کے اس تشبیہ میں ایک اور بھی نقص ہے۔وہ یہ ہے کہ تشبہ اُس امر میں چاہئے کہ مشہور اور معروف ہو۔پس یہ کہنا کہ اندر نے ور ترا کو ایسا ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔جیسے بوچڑ گائے کے گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے۔یہ تشبیہ فن بلاغت کے رو سے تب درست بیٹھتی ہے کہ جب یہ ثابت ہو کہ وید کے زمانہ میں عام طور پر گائے کا گوشت بازاروں میں بکتا تھا اور بو چڑلوگ ٹکڑے ٹکڑے کر کے وہ گوشت آریا لوگوں کو دیتے تھے مگر حال کے آریا لوگ ہر گز اس کے قائل نہیں۔اب ظاہر ہے کہ کلام میں ایسی تشبیہ بیان کرنا جس کا خارج میں وجو د ہی نہیں بلکہ جس سے لوگ متنفر ہیں دائرہ فصاحت بلاغت سے بالکل خارج ہے۔اگر ایک لڑکا بھی اپنے کلام میں ایسی تشبیہ بیان کرے تو وہ دانشمندوں کے نزدیک قابل ملامت اور سادہ لوح ٹھہرتا ہے۔کیونکہ تشبیہ کا لطف تب ہی ظاہر ہوتا ہے کہ جب مشابہت ایسی ظاہر ہو کہ جس چیز سے تشبیہ دی گئی ہے سامعین اس سے بخوبی واقفیت رکھتے ہوں اور ان کی نظر میں وہ چیز بدیہی الظہور اور مسلم الوجود ہو۔اور نیز ان کی طبیعتیں بھی اس کے ذکر سے کراہت نہ کرتی ہوں لیکن کون ثابت کر سکتا ہے کہ وید کے زمانہ میں ہندوؤں میں گائے کا گوشت بیچنا اور خرید نا اور کھانا ایک عام رواج تھا جس سے آریا قوم کو نفرت نہ تھی۔اور اگر یہ بھی خیال کیا جائے