براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 166
166 براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام که خود وید کا ہی ذکر کرنا اس رواج پر ثبوت ہے تو ایسا خیال کرنے سے بھی بکلی اعتراض مرتفع نہیں ہو سکتا۔کیونکہ گائے کے لہو اور گوشت سے پانی کو عمدہ مشابہت حاصل نہیں۔ہاں گائے کے دودھ کو مصفا پانی سے مشابہت حاصل ہے۔سو اگر مثلا رگ وید سنتھا اشتک اول سکت ۶۱ کی یہ شرقی جس میں یہ لکھا ہے اے اند رور تر اپر اپنا بجر چلا اور اسے ایسا ٹکڑے ٹکڑے کر جیسے بوچڑ گائے کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے۔اس طرح پر ہوتے کہ جب اندر نے اپنے بجر سے ور ترا کو دبایا۔تو اس میں سے اس طرح پر پانی بہہ نکلا جیسے شیر دار گائے کا پستان دبانے سے دودھ بہ نکلتا ہے۔تو وہ تلازم جس کا بیان کرنا مقصود تھا وہ بھی قائم رہتا اور تشبیہ بھی نہایت مطابق آجاتی۔ماسوا اس کے کسی طبیعت کو اس تشبیہ سے نفرت بھی نہیں کیونکہ ہندو لوگ بھی بلا دغدغہ گائے کا دودھ پی لیتے ہیں۔قطع نظر ان سب باتوں کے ایسے شاعرانہ تلازمات میں ہماری بحث ہی نہیں اور قرآن شریف کے سامنے ان لغویات کا ذکر کرنا ایک بیہودہ حرکت اور ناحق کی دردسر ہے۔جس بلاغت حقیقی کو قرآن شریف پیش کرتا ہے وہ تو ایک دوسرا ہی عالم ہے جس سے لغو اور جھوٹ اور بیہودہ باتوں کو کچھ بھی تعلق نہیں بلکہ حکمت اور معرفت کے بے انتہا دریا کو اقل اور اول عبارت میں بالتزام فصاحت و بلاغت بیان کیا ہے اور جمیع دقائق الہیات پر احاطہ کر کے ایسا کمال دکھلایا ہے جس سے انسانی قوتیں عاجز ہیں۔لیکن وید کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کیا تحریر میں لاویں جس میں بجائے حقائق و معارف کے طرح طرح کے گمراہ کرنے والے مضمون موجود ہیں۔• کر وڑ ہا بندگان خدا کو مخلوق پرستی کی طرف کس نے جھکایا؟ وید نے۔آریوں کو صد با دیوتاؤں کا پرستار کس نے بنایا؟ وید نے۔کیا اس میں کوئی ایسی شرقی بھی ہے جو کہ صاف صاف اور واشگاف طور پر مخلوق پرستی سے منع کرے، اور سورج چاند و غیرہ کی پرستش سے روکے اور ان تمام شرتیوں کو جو مخلوق پرستی کی تعلیم پر مشتمل ہیں محل اعتراض ٹھہر اوے۔کوئی بھی نہیں۔پھر وہ بلاغت جو حق اور حکمت کی روشنی دکھلانے پر منحصر ہے کیو نکر اس کو نصیب ہو سکتی ہے۔کیا ہم ایسے کلام کو بلیغ کہہ سکتے ہیں جس کی نسبت دعویٰ تو یہ کیا جاتا ہے کہ اس کا مقصود اصلی شرک کا مٹانا اور توحید کا قائم کرنا ہے۔لیکن وہ گونگوں کی طرح اس دعویٰ کو بہ پایۂ صداقت پہنچانے سے عاجز رہا ہے۔ہر ایک عاقل جانتا ہے کہ وجوہ بلاغت میں سے نہایت ضروری ایک یہ وجہ ہے کہ جس بات کا ظاہر کرنا اور کھولنا مقصود ہو اس کو اس طرح کھول کر بتلایا جاوے کہ طالب حق کی تسلی کے لئے کافی ہو اور سب کو معلوم ہے کہ وہی شخص فصیح کہلا تا ہے جو کہ اپنے مطلب کو ایسے عمدہ طور پر ادا کرے کہ گویا اپنے مافی الضمیر کا نقشہ کھینچ کر دکھلا دے۔اب اگر آریا صاحبوں کا دعویٰ یہ ہو تا کہ وید کا اصلی مطلب مخلوق پرستی کی تعلیم ہے۔تو شاید اس کی نسبت گمان ہو سکتا کہ وہ بلاغت کے درجہ سے بکلی ساقط نہیں۔کیونکہ گو وید نے حقیقی بلاغت کے مذاق پر مخلوق پرستی پر کوئی دلیل بیان نہیں کی اور اس کو ثابت کر کے نہیں دکھلایا۔مگر تاہم واضح کلام سے کہ بلاغت کی ایک جز ہے اپنا منشاء دیوتاؤں کی پوجا کی نسبت کھول کر بیان کر دیا اور اگنی اور وایو اور اندر وغیرہ کی تعریف میں صدہا منتر جنتر بناڈالے۔اور ان