براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 158
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام کیونکہ : یعنے: ہ یہ کمالات بھی ایسے ہیں کہ گلاب کے پھول کے کمالات کی طرح ان میں بھی عاد تا ممتنع معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی انسان کے کلام میں مجتمع ہو سکیں اور یہ امتناع نہ نظری بلکہ بدیہی ہے۔158 جن دقائق و معارف عالیہ کو خدائے تعالیٰ نے مین ضرورت حقہ کے وقت اپنے بلیغ اور فصیح کلام میں بیان فرما کر ظاہری اور باطنی خوبی کا کمال دکھلایا ہے اور بڑی نازک شرطوں کے ساتھ دونوں پہلوؤں ظاہر و باطن کو کمالیت کے اعلیٰ مرتبہ تک پہنچایا ہے۔اول تو ایسے معارف عالیہ ضرور یہ لکھے ہیں کہ جن کے آثار پہلی تعلیموں سے مندرس اور محو ہو گئے تھے اور کسی حکیم یا فیلسوف نے بھی ان معارف عالیہ پر قدم نہیں مارا تھا اور پھر ان معارف کو غیر ضروری اور فضول طور پر نہیں لکھا بلکہ ٹھیک ٹھیک اس وقت اور اس زمانہ میں ان کو بیان فرمایا جس وقت حالت موجودہ زمانہ کی اصلاح کے لئے ان کا بیان کرنا از بس ضروری تھا اور بغیر ان کے بیان کرنے کے زمانہ کی ہلاکت اور تباہی متصور تھی اور پھر وہ معارف عالیہ ناقص اور نا تمام طور پر نہیں لکھے گئے بلکہ کم و کیفا کامل درجہ پر واقعہ ہیں اور کسی عاقل کی عقل کوئی ایسی دینی صداقت پیش نہیں کر سکتی جو ان سے باہر رہ گئی ہو اور۔کسی باطل پرست کا کوئی ایسا وسوسہ نہیں جس کا ازالہ اس کلام میں موجود نہ ہو۔ان تمام حقائق و دقائق کے التزام سے کہ جو دوسری طرف ضرورات حقہ کے التزام کے ساتھ وابستہ ہیں فصاحت بلاغت کے ان اعلیٰ کمالات کو ادا کرنا جن پر زیادت متصور نہ ہو۔یہ تو نہایت بڑا کام ہے کہ جو بشری طاقتوں سے بہ بداہت نظر بلند تر ہے۔۔۔انسانی فصاحتوں کا یہی حال ہے کہ بجز فضول اور غیر ضروری اور واہیات باتوں کے قدم ہی نہیں اٹھ سکتا۔اور بغیر جھوٹ اور ہنرل کے اختیار کرنے کے کچھ بول ہی نہیں سکتے۔اور اگر کچھ بولے بھی تو ادھورا۔ناک ہے تو کان نہیں۔کان ہیں تو آنکھ ندارد۔سچ بولے تو فصاحت گئی۔فصاحت کے پیچھے پڑے تو جھوٹ اور فضول گوئی کے انبار کے انبار جمع کر لئے۔پیاز کی طرح سب پوست ہی پوست اور پیچ میں کچھ بھی نہیں۔پس جس صورت میں عقل سلیم صریح حکم دیتی ہے کہ ناکارہ اور خفیف معاملات اور سیدھے سادھے واقعات کو بھی ضرورت حقہ اور راستی کے التزام سے رنگین اور بلیغ عبارت میں ادا کرنا ممکن نہیں تو پھر اس بات کا سمجھنا کس قدر آسان ہے کہ معارف عالیہ کو ضرورتِ حقہ کے التزام کے ساتھ نہایت رنگین اور فصیح عبارت میں جس سے اعلیٰ اور اصفی امتصور نہ ہو بیان کرنا بالکل خارق عادت اور بشری طاقتوں سے بعید ہے۔اور جیسا کہ گلاب کے پھول کی طرح کوئی پھول جو کہ ظاہر و باطن میں اس سے مشابہ ہو بنانا عاد تا محال ہے۔ایسا ہی یہ بھی محال ہے۔