براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 159
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام سورۃ فاتحہ اور قرآن شریف میں ایک اور خاصہ بزرگ پایا جاتا ہے کہ جو اسی کلام پاک سے خاص ہے علاوہ سورۃ فاتحہ اور قرآن شریف کے گلاب کے پھول کی وجوہ بے نظیر کی اور بکلی مطابقت کے ) اس کو توجہ اور اخلاص سے پڑھنا دل کو صاف کرتا ہے اور ظلمانی پر دوں کو اٹھاتا ہے اور۔سینے کو منشرح کرتا ہے اور • 159 طالب حق کو حضرت احدیت کی طرف کھینچ کر ایسے انوار اور آثار کا مورد کرتا ہے کہ جو مقربان حضرت احدیت میں ہونی چاہئے۔اور جن کو انسان کسی دوسرے حیلہ یا تدبیر سے ہر گز حاصل نہیں کر سکتا۔اور اس روحانی تاثیر کا ثبوت بھی ہم اس کتاب میں دے چکے ہیں اور اگر کوئی طالب حق ہو تو بالمواجہ ہم اس کی تسلی کر سکتے ہیں اور ہر وقت تازہ بتازہ ثبوت دینے کو طیار ہیں۔قرآن شریف کی کسی اقل قلیل سورۃ کی نظیر اور مخالفین ہر ایک باخبر آدمی پر ظاہر ہے کہ مخالفین باوجو دسخت حرص اور شدت عناد اور پرلے درجہ کی مخالفت اور عداوت کے مقابلہ اور معارضہ سے قدیم سے عاجز رہے ہیں اور اب بھی عاجز ہیں اور کسی کو دم مارنے کی جگہ نہیں۔اور باوجود اس بات کے کہ اس مقابلہ سے ان کا عاجز رہنا۔ان کو ذلیل بناتا ہے۔۔جہنمی ٹھہراتا ہے۔۔کافر اور بے ایمان کا ان کو لقب دیتا ہے۔۔بے حیا اور بے شرم ان کا نام رکھتا ہے۔۔مگر مردہ کی طرح ان کے مونہہ سے کوئی آواز نہیں نکلتی۔پس لا جواب رہنے کی ساری ذلتوں کو قبول کرنا اور تمام ذلیل ناموں کو اپنے لئے روار کھنا اور تمام قسم کی بے حیائی اور بے شرمی کی خس و خاشاک کو اپنے سر پر اٹھا لینا اس بات پر نہایت روشن دلیل ہے کہ ان ذلیل چمگادڑوں کی اس آفتاب حقیقت کے آگے کچھ پیش نہیں جاتی۔۔۔پاک کلام کا انسانی طاقتوں سے بلند تر ہونا جس حالت میں انسان میں یہ قدرت نہیں پائی جاتی کہ ایک گلاب کے پھول کی جو صرف ایک ساعت تر و تازہ اور خوشنما نظر آتا ہے اور۔دوسری ساعت میں نہایت افسردہ اور پژمردہ اور بد نما ہو جاتا ہے اور۔اس کا وہ لطیف رنگ اڑ جاتا ہے اور