براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 90
براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 90 ان کی اس عمارت کو گراتا ہے جو وہ بنارہے ہیں اس لئے ایک جھوٹ کی خاطر سے دوسرا جھوٹ بھی انہیں گھڑنا پڑا اور ایک آنکھ کے مفقود ہونے سے دوسری بھی پھوڑنی پڑی۔پس ناچار انہوں نے باطل سے پیار کر کے حق کو چھوڑ دیا۔نبیوں کی اہانت روا رکھی۔پاکوں کو ناپاک بنایا۔اور ان دلوں کو جو مہبط وحی تھے کثیف اور مکدر قرار دیا تاکہ ان کے مصنوعی خدا کی کچھ عظمت نہ گھٹ جائے یا منصوبہ کفارہ میں کچھ فرق نہ آجائے۔اسی خود غرضی کے جوش سے انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اس سے فقط نبیوں کی توہین نہیں ہوتی بلکہ خدا کی قدوسی پر بھی حرف آتا ہے۔کیونکہ جس نے نعوذ باللہ ناپاکوں سے ربط ارتباط اور میل ملاپ رکھا وہ آپ بھی کا ہے کا پاک ہوا۔۔۔۔وحی اللہ پانے کے لئے نقدسِ کامل شرط ہونا کچھ ایسا امر نہیں جس کے ثبوت کے دلائل کمزور ہوں یا جس کا سمجھنا سلیم العقل آدمی پر کچھ مشکل ہو۔بلکہ یہ وہ مسئلہ ہے جس کی شہادت تمام زمین و آسمان میں پائی جاتی ہے جس کی تصدیق عالم کا ذرہ ذرہ کرتا ہے جس پر نظام تمام دنیا قائم ہے۔قرآن شریف میں اس مسئلہ کو ایک عمدہ مثال میں بیان کیا گیا ہے۔۔۔" 35 حضرت مرزا صاحب سورۃ النور آیت 36 کی لطیف تحقیقات جو اس کی تفسیر سے متعلق اور بحث ہذا کی تکمیل کے لئے ضروری 36 اس کا ایک حصہ ہم چندر بیمار کس کے بعد درج کرتے ہیں۔ہم یہاں مترجم تحقیق الجہاد ”غلام المحسنین کی توجیہ “ حسب مذاق عیسائیاں بطور تنزل ” کی طرف قارئین کرام کی توجہ دلاتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ :۔36", 34,, “ اس خود غرضی کے جوش سے انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اس سے فقط نبیوں کی توہین نہیں ہوتی۔بلکہ خدا کی قدوسی پر بھی حرف آتا ہے۔کیونکہ جس نے ناپاکوں سے ربط ارتباط اور میل ملاپ رکھا وہ آپ بھی کا ہے کا پاک ہو ا۔” 37 مولوی چراغ علی کے معتقدات اور ان کے مترجم و تبصرہ نگار کے اعتقادات کا ذرا تصور کریں کہ ان سے کیا نتائج مترتب ہوتے ہیں جن کے بارے میں حضرت مرزا صاحب نے واضح کیا ہے۔لیکن مولوی عبد الحق براہین احمدیہ کا مطالعہ کئے بغیر حضرت مرزا صاحب کے خطوط جو آپ نے مولوی چراغ علی کو موصوف کے خطوط کے جواب میں لکھے ہیں سے کیا نتائج نکالتے ہیں ! جو حقیقت کے بالکل بر عکس ہیں۔حضرت مرزا صاحب اس کے متعلق مزید تحریر فرماتے ہیں:۔“۔عیسائی لوگ بھی نور کے فیضان کے لئے فطرتی نور کا شرط ہونا نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ جس دل پر نور وحی نازل ہو۔اس کے لئے اپنی کسی خاصہ اندرونی میں نورانیت کی حالت ضروری نہیں (نوٹ: جیسا کہ مولوی چراغ علی نے لکھا ہے کہ پیغمبر نہ تو بے عیب ہوتا ہے نہ معصوم (نعوذ باللہ) بلکہ اگر کوئی بجائے عقل سلیم کے کمال درجہ کا نادان اور سفیہ ہو اور بجائے صفت شجاعت کے کمال درجہ کا بزدل اور بجائے صفت سخاوت کے کمال درجہ کا بخیل اور بجائے صفت حمیت کے کمال درجہ کا بے غیرت اور بجائے صفت محبت الہیہ کے کمال درجہ کا محب دنیا اور بجائے صفت زہد و ورع و امانت کے بڑا بھارا چور اور ڈاکو اور بجائے صفت عفت و حیا کے کمال درجہ کا بے شرم اور شہوت پرست اور بجائے صفت قناعت کے کمال درجے کا حریص اور لالچی۔تو ایسا شخص بھی بقول حضرات عیسائیاں باوصف ایسی حالت خراب کے خدا کا نبی اور مقرب ہو سکتا ہے۔بلکہ ایک مسیح کو باہر نکال کر دوسرے تمام انبیاء جن کی نبوت کو بھی وہ مانتے ہیں اور ان کی الہامی