براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 143
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام نیکی کی طرف تمام دنیا کو بلائے گی۔اور بندگان خدا پر حق اور حکمت کا دروازہ کھول دے گی۔اس لئے کہ اس کو کہنا پڑا کہ ابھی بہت سی باتیں قابل تعلیم باقی ہیں جن کی تم ہنوز برداشت نہیں کر سکتے۔مگر میرے بعد ایک دوسرا آنے والا ہے وہ سب باتیں کھول دے گا اور علم دین کو بمر تبہ کمال پہنچائے گا۔63,9 143 (حضرت مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کے صفحہ نمبر 300 پر حاشیہ در حاشیہ نمبر 2 میں اس کا حوالہ انجیل یوحنا باب 16 آیت 12،13،14 لکھ کر دیا ہے۔ناقل) اس کے بعد حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں:۔۔۔ایک عرصہ تک وہی ناقص کتاب لوگوں کے ہاتھ میں رہی اور پھر اس نبی معصوم کی پیشین گوئی کے بموجب قرآن شریف کو خدا نے نازل کیا اور ایسی جامع شریعت عطا فرمائی جس میں نہ توریت کی طرح خواہ نخواہ ہر جگہ اور ہر محل میں دانت کے عوض دانت نکالنا ضروری لکھا اور نہ انجیل کی طرح یہ حکم دیا کہ ہمیشہ اور ہر حالت میں دست در از لوگوں کے طمانچے کھانے چاہئیے۔بلکہ وہ کامل کلام عارضی خیالات سے ہٹا کر حقیقی نیکی کی طرف ترغیب دیتا ہے اور جس بات میں واقعی طور پر بھلائی پیدا ہو خواہ وہ بات درشت ہو خواہ نرم۔اسی کے کرنے کے لئے تاکید فرماتا ہے۔جیسا فرمایا ہے۔۔وَجَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ، فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ 4 الجزو نمبر ۲۵ یعنے بدی کی پاداش میں اصول انصاف تو یہی ہے کہ بد گن آدمی اسی قدر بدی کا سزاوار ہے جس قدر اس نے بدی کی ہے پر جو شخص عفو کر کے کوئی اصلاح کا کام بجالائے یعنے ایسا عفونہ ہو جس کا نتیجہ کوئی خرابی ہو۔سو اُس کا اجر خدا پر ہے اور ایسا ہی جامعیت اور کمال شریعت کی طرف اس آیت میں بھی اشارہ فرمایا۔الْيَوْمَ الْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي یعنے آج میں نے علم دین کو مرتبہ کمال تک پہنچایا اور اپنی نعمت کو امت محمدیہ پر پورا کیا۔اب اس تمام تحقیقات سے ظاہر ہے کہ انجیل کی تعلیم کامل بھی نہیں چہ جائیکہ اس کو بے نظیر اور لاثانی کہا جائے۔ہاں اگر انجیل لفظا و معناخد ا کاکلام ہوتا اور اس میں ایسی خوبیاں پائی جاتیں جن کا انسان کے کلام میں پائے جانا ممتنع اور محال ہے۔تب وہ بلاشبہ بے نظیر ٹھہرتی مگر وہ خوبیاں تو انجیل میں سے اسی زمانہ میں رخصت ہو گئیں جب حضرات عیسائیوں نے نفسانیت سے اس میں تصرف کرنا شروع کیا۔نہ وہ الفاظ رہے نہ وہ معانی رہے نہ وہ حکمت اور نہ وہ معرفت۔سو اب اے حضرات آپ لوگ ذرا ہوش سنبھال کر جواب دیں کہ جب ایک طرف تکمیل ایمان بے مثل کتاب پر موقوف ہے۔اور دوسری طرف آپ لوگوں کا یہ حال کہ نہ قرآن شریف کو مانیں اور نہ ایسی کوئی دوسری کتاب نکال کر دکھلاویں جو بے مثل ہو۔تو پھر آپ لوگ کمال ایمان ویقین کے درجہ تک کیو نکر پہنچ سکتے ہیں اور کیوں بے فکر بیٹھے ہیں۔کیا کسی اور کتاب کے نازل ہونے کی انتظار ہے۔" 66 اب ان مذکورہ بالا عبارتوں کو پڑھ کر مولوی عبد الحق صاحب کے ناقلین کو غور کرنی چاہئے کہ وہ کیوں نا حق مولوی چراغ علی صاحب کو براہین احمدیہ ( جسے حضرت مرزا صاحب نے من جانب اللہ مامور ہو کر لکھا) کے معارضہ و مناقشہ کے طور پر سامنے لاتے ہیں۔اُنہیں