براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 123
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام متابعت اور محبت کی برکت سے اور اپنے پاک کلام کی پیروی کی تاثیر سے اس خاکسار کو اپنے مخاطبات سے خاص کیا ہے اور علوم لدنیہ سے سر فراز فرمایا ہے۔اور بہت سے اسرار مخفیہ سے اطلاع بخشی ہے اور بہت سے حقائق اور معارف سے اس ناچیز کے سینہ کو پر کر دیا ہے اور بار ہا بتلا دیا ہے کہ یہ سب عطیات اور عنایات اور یہ سب تفضلات اور احسانات اور یہ سب تلقفات اور توجہات اور یہ سب انعامات اور تائیدات اور یہ سب مکالمات اور مخاطبات بیمن متابعت و محبت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔جمال ہم نشین ور اثر کرد وگرنه ہماں خاکم ہستم "31 123 چونکہ یہ مباحث مولوی چراغ علی صاحب کی ایک تحریر کو پیش نظر رکھ کر درج کئے گئے ہیں اس لئے مبادا کہ حضرت مرزا صاحب کے دلائل اثبات نبوت و حقیت فرقان مجید کو بیان نہ کیا جا سکا ہو اس لئے قارئین کرام سے درخواست ہے کہ وہ آنحضرت صلی یکم کی صداقت پر اندرونی و ذاتی شہادت اسی طرح ایسی دلائل جو خارجی واقعات پر مشتمل ہیں کیلئے ملاحظہ کریں براہین احمدیہ کے مقامات: قیام توحید کی خاطر پیش کر وہ قربانیاں کیلئے ملاحظہ ہو براہین احمدیہ صفحہ 112،111،110 و تائید ایزدی کیلئے صفحہ 119، 120، اخلاق فاضلہ میں بے نظیری صفحہ 282 تا 285 286 287، اعتدال و توازن صفحه 193 194 وغیرہ وغیرہ 6-7۔حقیت قرآن شریف و اثبات حقانیت فرقان مجید مولوی چراغ علی کی تمام مطبوعہ و غیر مطبوعہ تصنیفات پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زیر نظر موضوع مولوی چراغ علی کے موضوعات میں شامل ہی نہیں ہے۔لہذا قرآن کریم کے بارے میں مولوی چراغ علی صاحب کے ملتے جلتے موضوعات کو زیر بحث لا کر اس موضوع کے بارے میں بحث کو آگے بڑھانا ہو گا۔لیکن اس سے قبل کہ مولوی چراغ علی صاحب کے خیالات کو یہاں درج کیا جائے۔ہم حضرت مرزا صاحب کے رشحات قلم حقیت قرآن کے بارے میں درج کرتے ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں: حضرت مرزا صاحب کے نزدیک حقیت قرآن باوجود اس قدر ایجاز کلام کے کہ اگر اس کو متوسط قلم سے لکھیں تو پانچ چار جز میں آسکتا ہے۔پھر تمام دینی صداقتوں پر کہ جو بطور متفرق پہلی کتابوں میں اور انبیاء سلف کے صحیفوں میں پراگندہ اور منتشر تھیں مشتمل ہے۔اور نیز اس میں یہ کمال ہے کہ جس قدر انسان محنت اور کوشش اور جانفشانی کر کے علم دین کے متعلق اپنے فکر اور ادراک سے کچھ صداقتیں نکالے یا کوئی بار یک دقیقہ پیدا کرے یا اُسی علم کے متعلق کسی قسم کے اور حقائق اور معارف یا کسی نوع کے دلائل اور براہین اپنی قوت عقلیہ سے پیدا کر کے دکھلاوے یا ایسا ہی کوئی نہایت دقیق صداقت جس کو حکمائے سابقین نے مدت دراز کی محنت اور جانفشانی سے نکالا ہو معرض مقابلہ میں لاوے۔یا جس قدر مفاسد باطنی اور امراض روحانی ہیں جن میں اکثر افراد مبتلا ہوتے ہیں۔ان میں سے کسی کا ذکر یا علاج قرآن شریف سے دریافت کرنا چاہے۔تو وہ جس طور سے اور جس باب میں آزمائش کرنا چاہتا ہے آزما کر دیکھ لے کہ ہر یک دینی صداقت اور حکمت کے بیان میں قرآن شریف ایک دائرہ کی طرح محیط ہے جس سے کوئی صداقت