براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 122 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 122

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام اسی جہان میں سچی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اور قرآن شریف جو سچی اور کامل ہدایتوں اور تاثیروں پر مشتمل ہے جس کے ذریعہ سے حقانی علوم اور معارف حاصل ہوتے ہیں اور بشری آلودگیوں سے دل پاک ہوتا ہے اور انسان جہل اور غفلت اور شبہات کے حجابوں سے نجات پا کر حق الیقین کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔30", 122 6-6- اثبات نبوت محمدیہ صلی علیم میں اس جہاں میں حضرت محمد مصطفی ملی لی ایم کی برکتوں سے سچی اور حقیقی نجات کا نمونہ مقام حضرت محمد مصطفی صلی ا م کی اتباع میں ملنے والی برکتوں، کچی اور حقیقی نجات کے اپنی ذات میں نمونے کے بارے میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی فرماتے ہیں: سوائے بھائیو انہیں پنڈت صاحب کے حال سے نصیحت پکڑو اور اپنے نفسوں پر ظلم نہ کرو سچی نجات کو ڈھونڈو تا اس جہان میں اس کی برکتیں پاؤ۔سچی اور حقیقی نجات وہی ہے جس کی اس جہان میں برکتیں ظاہر ہوتی ہیں اور قادر قوی کا وہی پاک کلام ہے کہ جو اسی جگہ طالبوں پر آسمانی راہ کھولتا ہے سو اپنے آپ کو دھو کا مت دو اور جس دین کی حقیت اسی دنیا میں نظر آرہی ہے اس پاک دین سے رو گردان ہو کر اپنے دل پر تاریکی کا دھبہ مت لگاؤ ہاں اگر مقابلہ اور معارضہ کرنے کی طاقت ہے تو اسی سورہ فاتحہ کے کمالات کے مساوی کوئی دوسراکلام پیش کرو اور جو کچھ سورۂ فاتحہ کے خواص روحانی کی بابت اس عاجز نے لکھا ہے وہ کوئی سماعی بات نہیں ہے بلکہ یہ عاجز اپنے ذاتی تجربہ سے بیان کرتا ہے کہ فی الحقیقت سورۂ فاتحہ مظہر انوار الہی ہے اس قدر عجائبات اس سورۃ کے پڑھنے کے وقت دیکھے گئے ہیں کہ جن سے خدا کے پاک کلام کا قدر و منزلت معلوم ہوتا ہے اس سورہ مبارکہ کی برکت سے اور اس کے تلاوت کے التزام سے کشف مغیبات اس درجہ تک پہنچ گیا کہ صدہا اخبار غیبیہ قبل از وقوع منکشف ہوئیں اور ہر یک مشکل کے وقت اس کے پڑھنے کی حالت میں عجیب طور پر رفع حجاب کیا گیا اور قریب تین ہزار کے کشف صحیح اور رویا صادقہ یاد ہے کہ جواب تک اس عاجز سے ظہور میں آچکے اور صبح صادق کے کھلنے کی طرح پوری بھی ہو چکی ہیں۔اور دو سو جگہ سے زیادہ قبولیت دعا کے آثار نمایاں ایسے نازک موقعوں پر دیکھے گئے جن میں بظاہر کوئی صورت مشکل کشائی کی نظر نہیں آتی تھی اور اسی طرح کشف قبور اور دوسرے انواع اقسام کے عجائبات اسی سورہ کے التزام ورد سے ایسے ظہور پکڑتے گئے کہ اگر ایک ادنی پر توہ اُن کا کسی پادری یا پنڈت کے دل پر پڑ جائے تو یک دفعہ حُب دنیا سے قطع تعلق کر کے اسلام کے قبول کرنے کے لئے مرنے پر آمادہ ہو جائے۔اسی طرح بذریعہ الہامات صادقہ کے جو پیشگوئیاں اس عاجز پر ظاہر ہوتی رہی ہیں جن میں سے بعض پیشگوئیاں مخالفوں کے سامنے پوری ہو گئی ہیں اور پوری ہوتی جاتی ہیں اس قدر ہیں کہ اس عاجز کے خیال میں دو انجیلوں کی ضخامت سے کم نہیں اور یہ عاجز بطفیل متابعت حضرت رسولِ کریم مخاطبات حضرت احدیت میں اس قدر عنایات پاتا ہے کہ جس کا کچھ تھوڑا سا نمونہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ کے عربی الہامات وغیرہ میں لکھا گیا ہے۔خداوند کریم نے اُسی رسول مقبول کی