براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 84
84 براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 'It is neither a part of the prophet to predict future events, not to show supernatural miracles۔And further, a prophet is neither immaculate nor infalliable۔The Revelation is a natural product of human faculties۔A prophet feels that his mind is illuminated by God, and the thoughts which are expressed by him and spoken or written under this influence are to be regarded as the words of God۔(Introduction۔ix viii) اور ان الفاظ کا ترجمہ خواجہ غلام المحسنین نے یہ کیا ہے: آئندہ واقعات کی پیشین گوئی کرنا یا فوق العادت معجزات کا دکھانا بھی پیغمبر کا کام نہیں ہے۔علاوہ بریں پیغمبر نہ تو بے عیب ہوتا ہے اور نہ معصوم۔وحی والہام قوائے انسانی کا قدرتی نتیجہ ہیں۔پیغمبر کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے منور کر دیا ہے اور جو خیالات وہ ظاہر کرتا ہے اور جن کو اس اثر سے متاثر ہو کر تقریر یا تحریر میں لاتا ہے وہ ” خدا کے الفاظ “ سمجھے جاتے ہیں۔۔۔" 18 اس متن پر متر جم نے ایک نوٹ دیا ہے۔موصوف لکھتے ہیں:۔جس قدر معجزات دیگر انبیاء علیہم السلام کو عطا کئے گئے تھے وہ سب آنحضرت کو عطا کئے گئے ، مگر چونکہ وہ معجزات فانی تھے اور آنحضرت پر سلسلہ نبوت کا ختم کرنا مشیت الہی میں تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو علاوہ ان معجزات کے ایک معجزہ دائمی عطا فرمایا جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔میری مراد قرآن مجید سے ہے۔جس کا معارضہ آج تک کوئی نہ کر سکا اور نہ آئندہ کر سکے گا۔19 جب مترجم مصنف کے ادعاء “ فوق العادت معجزات کا دکھانا بھی پیغمبر کا کام نہیں ہے ” کا دفاع کرتے ہیں تو آنحضرت صلعم کے دائمی معجزہ قرآن مجید کا حوالہ کیوں دیتے ہیں؟ یا تو پیغمبر کے معجزات کے دکھانے کا انکار کریں یا یہ مثال نہ دیں! اس کے بعد مترجم اس حاشیہ میں لکھتے ہیں:۔عصمت انبیاء کی بابت مصنف نے جو خیال ظاہر کیا ہے وہ حسب مذاق عیسائیان ہے اور دلیل کی خاطر بطور تنزل اس کو تسلیم کر کے جواب دیا ہے۔کیونکہ اہل اسلام کے نزدیک کل انبیاء یقینا معصوم ہیں۔اور عیسائی ان کو غیر معصوم اور ہر قسم کے فسق و فجور اور گنابان کبیرہ کا مر تکب مانتے ہیں۔"20 بقول مترجم، مصنف (مولوی چراغ علی ) نے “ حسب مذاق عیسائیان۔۔۔دلیل کی خاطر بطور تنزل اس کو تسلیم کر کے جواب دیا ہے۔" گویا عصمت انبیاء سے انکار (نعوذ باللہ ) اتنی ارزاں چیز ہے کہ “ حسب مذاق عیسائیان ” اسے جہاں چاہے “بطور تنزل” تسلیم کر لیا جائے۔یہ بات تو اسلام کے بنیادی عقائد کے ہی خلاف ہے۔“مذاق عیسائیان یا دیگر کی بھینٹ اسے کیونکر چڑھا دیا جائے؟! دراصل مترجم، مصنف کا غیر واجب دفاع کر رہا ہے۔خواہ اسلامی عقائد کا خون ہوتا ہے ہوا کرے! اسی لئے تو اسپر نگر نے مولوی چراغ علی کی تحریر کو عیسائیت کی حمایت میں لکھی گئی تحریر ” قرار دیا ہے۔21 پھر موصوف مصنف اور مترجم اسلام کا کہاں دفاع کر رہے ہیں؟ بلکہ ہتھیار ڈال کے معذرت کر رہے ہیں! اس کے باوجو د بقول مولوی عبد الحق صاحب “مولوی چراغ علی کی کتابیں پیاسے کے لئے آپ حیات، مریض کے لئے نوشدارو اور مارگزیدہ کے لئے تریاق کا کام دیں گے " 22 قرار دیا اور لکھا کہ : “ ان کی (مولوی چراغ علی کی ) تصانیف تعلیم و تحقیق دین اسلام کا ایک ایسا بے بہا مجموعہ ہیں کہ ان کو غور سے پڑھنے کے بعد حقیت و