براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 83
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 83 آنحضرت تعدد ازدواج کے موقوف کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتے تھے گویا کہ مولوی چراغ علی کے مطابق قرآن آنحضرت کی تصنیف ہے جس میں آپ احکام درج فرما سکتے تھے اس سے تو قرآن کی الہامی حیثیت مشتبہ ہو جاتی ہے۔لیکن اس مضمون کو حضرت مرزا صاحب اس مضمون کی شان کے مطابق بیان کرتے ہیں کہ “اگر کوئی قرآن کے زمانہ پر ایک نظر ڈال کر دیکھے کہ دنیا میں تعدد ازدواج کسی افراط تک پہنچ گیا تھا اور کیسی بے اعتدالیوں سے عورتوں کے ساتھ برتاؤ ہوتا تھا تو اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ قرآن نے دنیا پر احسان کیا کہ ان بے اعتدالیوں کو موقوف کر دیا۔"کے اس طریق پر مضمون کو بیان کرنا عین شان قرآن کے موافق ہے جبکہ مولوی چراغ علی صاحب کی تحریر تو خفت کا موجب ہے۔اسی کے متعلق حضرت مرزا صاحب اپنے ان اشعار میں ( سر سید کو مخاطب کر کے) تحریر کرتے ہیں۔اے اسیر عقل خود بر هستی خود کم نباز کیں سپہر بو العجائب چوں تو بسیار آورد غیر را ہرگز نمی باشد گذر در کوئے حق هر که آید ز آسمان او راز آن یار آورد خود بخود فهمیدن قرآن گمان باطل است ہر که از خود آورد او نجس و مردار آورد 16 ترجمہ : اے اپنی عقل کے قیدی اپنی ہستی پر ناز نہ کر کہ یہ عجیب آسمان تیری طرح کے بہت سے آدمی لا یا کرتا ہے۔خدا کے کوچہ میں غیر کو ہر گز دخل نہیں ہوتا جو آسمان سے آتا ہے وہی اس یار کے اسرار ہمراہ لاتا ہے۔آپ ہی آپ قرآن کو سمجھ لینا ایک غلط خیال ہے اپنے پاس سے اس کا مطلب پیش کرتا ہے وہ گندگی اور مر دار ہی پیش کرتا ہے۔17 جو فی الواقعہ یہ سرسید احمد خان کی تفسیر القرآن کے بارے میں اشعار ہیں اور ان سے مولوی چراغ علی جو سرسید کے پیرو خاص ہیں اس سے باہر نہیں ہیں۔5-3-مولوی چراغ علی کی نظر میں پیش گوئیاں، معجزات، عصمت انبیاء اور وحی و الہام ایک تقابلی مطالعہ مولوی چراغ علی صاحب کی ایک انگریزی تصنیف 'A Critical Exposition of the Popular Jihad 1884ءجو حیدر آباد میں لکھی گئی اور 1885ء میں تھیکر اسپنک اینڈ کمپنی کے پریس میں چھاپی گئی۔اس کے اردو ترجمے کا پہلا ایڈیشن 1912ء میں رفاہ عام اسٹیم پریس لاہور سے مولوی عبد الحق صاحب کے اہتمام سے شائع ہوا۔یہ ترجمہ مولوی خواجہ غلام المحسنین صاحب نے “ تحقیق الجہاد" کے نام سے کیا تھا۔اس کتاب کے تعارف (Introduction) کا ترجمہ ، مترجم نے مقدمہ تحقیق الجہاد کے نام سے کیا ہے۔مولوی چراغ علی اس تعارف کے پیر Paral نمبر 34 میں لکھتے ہیں جس کا عنوان ہے: Muhammad's unwavering belief in his own mission and his success show him to be a True Prophet۔جس کا ترجمہ آنحضرت کا مستحکم یقین اپنی نبوت پر آپ کی کامیابی آپ کو سچا پیغمبر ثابت کرتی ہے " کرتے ہیں۔ی تسلسل میں، اس پیرا کے آخر پر بلا ضرورت پیش گوئیوں، معجزات، عصمت انبیاء، اور وحی و الہام کے بارے میں مولوی چراغ علی لکھتے ہیں:۔