براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 79
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام باب پنجم : حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی تحریرات اور مولوی چراغ علی صاحب۔عمومی موازنه 79 5-1-حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اور سرسید اور ان کے رفقاء کے نظریات / عقائد مولوی عبد الحق صاحب اردو زبان کے ذریعے سے سرسید کے معنوی جانشین تھے۔1 مسلمانوں کا روحانی مر تبہ بلند کرنے کے پہلو علی گڑھ تحریک سے یکسر غائب تھا۔اور یہی حال سرسید کے دیگر رفقاء کا تھا جن میں مولوی چراغ علی صاحب بھی شامل تھے۔جب مولوی عبد الحق صاحب مولوی چراغ علی کی بابت لکھیں گے تو نتائج اظہر من الشمس ہیں۔سرسید اور ان کے رفقاء کے نظریات اور حضرت مرزا صاحب کی تحریرات میں بنیادی طور پر فرق زمین اور آسمان کا ہے اور مولوی عبد الحق صاحب کا حضرت مرزا صاحب کے متعلق مد دوالا نظریہ ایک بودا اور نا قابل قبول بے بنیاد بات ہے۔مثلاً جب سر سید احمد خان صاحب نے اس عقیدہ کا اظہار کیا کہ دعا محض ایک عبادت ہے۔ورنہ اس کی وجہ سے خدا اپنی قضا و قدر کو نہیں بدلتا۔جو بہر حال اپنے مقررہ رستہ پر چلتی ہے تو اس پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے ایک رسالہ “برکات الدعاء تصنیف کر کے شائع کیا اور اس میں دلائل کے ساتھ ثابت کیا کہ دعا محض عبادت ہی نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں خدا اپنی قضاء قدر کو بدل بھی دیتا ہے کیونکہ وہ قادر مطلق ہے اور اپنی تقدیر پر بھی غالب ہے اور اسلامی تعلیم کے ماتحت ثابت کیا کہ اس بارے میں سرسید کا عقیدہ درست نہیں ہے۔جب یہ کتاب چھپ کر تیار ہو گئی تو آپ نے اس کا ایک نسخہ سر سید کو بھی بھجوایا ، جس پر سرسید نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو ایک خط لکھا اور اس خط میں معذرت کے طریق پر لکھا کہ “ میں اس میدان کا آدمی نہیں ہوں اس لئے مجھ سے غلطی ہوئی اور جو کچھ آپ نے تحریر کیا ہے وہی درست ہو گا۔3 کتاب مذکور میں جناب مرزا صاحب نے اپنی ایک دعائے مستجاب کا ذکر سر سید احمد خان صاحب کو مخاطب کر کے کیا ہے۔جس کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ ایک جگہ تحریر کرتے ہیں کہ میں نے سید احمد خان کو مخاطب کر کے اپنی کتاب “برکات الدعاء ” میں لکھا تھا کہ لیکھرام کی موت کے لئے میں نے دعا کی اور وہ دعا قبول ہو گئی ہے۔سو آپ کے لئے جو قبولیت دعا کے منکر ہیں یہ نمونہ دعائے مستجاب کافی ہے مگر میری اس تحریر پر ہنسی کی گئی کیونکہ لیکھرام ابھی زندہ اور ہر طرح تندرست اور توہین اسلام میں سخت سر گرم تھا۔بعد میں شخص مذکور 6 مارچ 1897ء کو پیشگوئی کی میعاد کے اندر ہلاک ہو گیا۔پنڈت لیکھرام وہی شخص ہے جس نے براہین احمدیہ کے جواب میں درج ذیل کتابیں لکھیں۔1۔تکذیب براہین احمدیہ جلد اول۔2۔تکذیب براہین احمدیہ جلد دوم۔3۔نسخہ خبط احمد یہ۔4۔ابطال بشارات احمدیہ۔5 5-2- مولوی چراغ علی کی نظر میں قرآن سنت اور حدیث کا مقام ایک تقابلی مطالعہ مولوی چراغ علی قرآن سے استخراج نتائج اور قرآن کی تفسیر کے متعلق دیباچہ “ عظم الکلام فی ارتقاء الاسلام ” میں لکھتے ہیں:۔“ چھ ہزار آیات قرآنی میں سے صرف دو سو آیتیں دیوانی، فوجداری، مال، سیاست، عبادت اور رسوم مذہبی کے متعلق ہیں۔ان معدودے چند آیات احکام سے بھی قانون کے ماخذ اولین ( قرآن ) کا تیسواں حصہ ایسا ہے جس کا قطعی النص ہو نا یقینی نہیں ہے۔یہ کوئی