براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 73 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 73

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام کتاب ( براہین احمدیہ ) ڈیڑھ سو جز ہے جس کی لاگت تخمیناً نو سو چالیس روپیہ ہے ، اور آپ کی تحریر محققانہ ملحق ہو کر اور بھی زیادہ ضخامت ہو جائے گی۔" 78 ڈیڑھ سو جزو ” اور “نو سو چالیس روپے ” کی حد تک تو مذ کورہ بالا اشتہار اور خط میں مطابقت پائی جاتی ہے۔73 لیکن جیسا کہ ہمارا خیال ہے مولوی عبدالحق صاحب نے نتائج کا استخراج بہ عجلت کیا ہے۔نہ تو انہوں نے براہین احمدیہ کو دیکھا ہے جس کے چاروں حصوں کے صفحات بمع اشتہارات وغیرہ 673 ہیں۔اور نہ ہی یہ سوچنے کی تکلیف گوارا کی ہے کہ ڈیڑھ سو جز ہوتے کتنے ہیں؟ ایک دوسرے مقام پر حضرت مرزا صاحب ایک اشتہار میں درج فرماتے ہیں: یہ سب ثبوت کتاب براہین احمدیہ کے پڑھنے سے جو کہ منجملہ تین سو جز کے قریب 37 جز کے چھپ وو چکی ہے، ظاہر ہوتے ہیں۔79 شاید ابھی تک “ تین سو جز کے قریب 37 جزو کے چھپ چکی ہے " کی بات واضح نہ ہوئی ہو تو حضرت مرزا صاحب کے اسی اشتہار کے انگریزی ترجمے سے اس بات کو واضح کیا جاتا ہے جو اس اشتہار کی پشت پر چھپا تھا اور اسی مجموعہ اشتہارات میں شامل ہے جس کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے۔حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اس کا انگریزی ترجمہ درج فرماتے ہیں جس کی ابتدا یوں درج کی گئی ہے : ON NOTICE VERNACULAR THE OF TRANSLATION REVERSE اور واوین میں درج کی گئی عبارت کا ترجمہ ہے: "۔۔۔ALL THESE EVIDENCES WILL BE FOUND BY PERUSAL OF THE BOOK WHICH WILL CONSIST OF NEARLY 4800 PAGES OF WHICH ABOUT 592 PAGES HAVE BEEN PUBLISHED۔1180 اب اس تحریر سے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ : 37 جز بر ابر ہے 592 صفحات کے اسی طرح: 300 جز بر ابر ہیں 4800 صفحات کے۔اور پھر براہین احمدیہ جو ہمارے ہاتھوں میں ہمارے سامنے ہے اُس کے گل صفحات 673 ہیں یعنی 37 جز بمع اشتہارات وغیرہ ( یعنی ایک جز برابر ہے 16 صفحات) اور جس خط کا حوالہ دے کر مولوی عبد الحق صاحب من مانے نتیجے نکالتے ہیں اُس میں تو یہ لکھا ہے: کتاب ( براہین احمدیہ ) ڈیڑھ سو جز ہے۔" جو اس لحاظ سے 150 جزو x 16 صفحات = 2400 صفحات ہوئے لیکن ہمارے سامنے جو کتاب ہے اُس کے کل صفحات 673 ہیں۔مولوی عبد الحق صاحب اگر زندہ ہوتے تو اپنی اس بے دلیل بات کی وضاحت کرتے جو واقعات کے قطعی طور پر بر خلاف ہے۔کم از کم موصوف براہین احمدیہ کے 2400-673 = 1727 صفحات کی وضاحت کرتے اور پھر حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی مدد لینے کا افسانہ تراشنے کا کوئی جواز گھڑتے اور وہ بھی 1727 صفحات سے متجاوز صفحات میں جن کے ساتھ مولوی چراغ علی کی تحریرات بھی دی جاتیں تو کوئی بات ہوتی۔بلاریب حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی علیہ السلام نے کیا ہی سچ فرمایا تھاجو “ بر اہین احمدیہ کے مخالفوں کی جلدی ” کے بارے میں ہے اور مولوی عبد الحق صاحب نے بھی اپنی جلد بازی سے اپنے آپ کو براہین احمدیہ کے مخالفوں میں اپنی نادانی سے اس کو چہ سے نابلد محض ہونے کے باوجو د شامل کر لیا ہے۔اور حضرت مرزا صاحب کی اس عبارت کے مصداق بن گئے ہیں۔