براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 72
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام (۳) جناب مولوی محمد چراغ علیخاں صاحب بہادر نائب معتمد مدار المهام۔حیدر حیدر آباد دکن عه محض بطور اعانت کتاب 75 72 پہلے ہی اشتہاری تذکرہ 16 مئی 1879ء میں حضرت مرزا صاحب نے لکھا کہ بغیر ملاحظہ کسی اشتہار کے خود بخود اپنے کرم ذاتی اور حمایت و حمیت اسلامیہ سے بوجہ چندہ اس کتاب کے ایک نوٹ دس روپیہ کا بھیجا ہے ” دوسرے اشتہار 3 دسمبر 1879ء میں خریداری کتب کا وعدہ کا ذکر ہے۔تیسرے اشتہار 1880ء (جنوری فروری میں مولوی چراغ علی صاحب کا نام “عالی مراتب خریداروں کے جن کے نام نامی حاشیہ میں بڑے فخر سے درج ہیں اور چوتھے موقعہ پر موصوف کا نام شاید جنوری / فروری 1880 تک "عر محض بطور اعانت طبع کتاب ” عطر دس روپیہ کی علامت ہے۔ملاحظہ ہو مضمون بر صغیر ہند و پاک میں نصف صدی قبل ر قوم لکھنے کی قدیم طرز مکرم ملک جمیل الرحمن رفیق صاحب وائس پرنسپل جامعہ احمدیہ ، روز نامہ الفضل، 7 فروری 2002ء) گویا بات مولوی چراغ کے دس روپیہ کے نوٹ بوجہ چندہ سے شروع ہوتی ہے اور دس روپیہ کی اعانت برائے طبع کتاب پر ختم ہوتی ہے۔درمیان میں خریداری کتب کے وعدے اور خریداروں کے نام کے ساتھ بات آتی ہے لیکن آخر تک رقم دس روپیہ کے نوٹ پر ہی رہتی ہے۔لیکن خطوط فروری / مئی 1879ء یا اشتہار ، اس کا باعث معلوم نہیں ہوتے کیونکہ جیسا کہ لکھا ہے :۔(مولوی چراغ علی صاحب نے بغیر ملاحظہ کسی اشتہار کے خود بخود اپنے کرم ذاتی و ہمت۔دس روپے کا نوٹ بھیجوایا ہے۔اگر یہ خطوط جو ان اشتہارون اور اعلانات سے قبل کے ہیں لیکن ایک اشتہار ان دونوں خطوط ( یعنی 19 فروری 1879ء اور 10 مئی 1879ء) سے بھی قبل کا ہے جس میں حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے براہین احمدیہ کا ذکر فرماتے ہوئے تحریر فرمایا: پہلے ہم نے اس کتاب کا ایک حصہ پندرہ جزو میں تصنیف کیا۔بغرض تکمیل ضروری امور کے نو حصے اور زیادہ کر دیئے جن کے سبب سے تعداد کتاب ڈیڑھ سو جزو ہو گئی۔ہر ایک حصہ اس کا ایک ایک ہزار نسخہ چھپے تو چورانوے روپیہ صرف ہوتے ہیں۔پس کل حصص کتاب نو سو چالیس روپے سے کم میں چھپ نہیں سکتے۔76 یہ اشتہار مذکورہ مجموعہ میں مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی کے رسالہ / اخبار “ اشاعۃ السنة ” بابت اپریل 1879ء میں سے ہے جو مئی 1879ء میں چھپا تھا۔اسی طرح مولوی عبدالحق صاحب نے 10 مئی 1879ء کے جس خط (محررہ 10 مئی 1879ء) کا اقتباس دیا ہے جو بغیر کسی Salutation) اظہار خلوص یا تعلق خاطر کے طور پر بولے یا لکھے جانے والے الفاظ، تسلیم، نیاز، آداب) کے بعد کتر بیونت درج کیا گیا ہے۔جبکہ سب سے پہلے خط میں ایسے الفاظ موجود ہیں جیسے کہ مولوی عبد الحق صاحب نے درج کیا ہے۔(خط حضرت مرزا صاحب بنام مولوی چراغ علی صاحب): آپ کا افتخار نامه محبت آمود عزور و دلایا 77 لیکن 10 مئی کے خط میں نہ تو تعلق خاطر کا اظہار ہے اور نہ ہی تاریخ کا اندراج ہے اور خط کی کل عبارت بغیر کسی نشان کمی بیشی کے یہ ہے: