براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 53
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام باب چہارم: حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے خطوط بنام مولوی چراغ علی صاحب مندرجہ اعظم الکلام۔تبصرہ و تنقید 53 4-1- حضرت مرزا صاحب کے نقل کردہ خطوط کے حصول کی کوششیں مولوی عبد الحق صاحب کو مولوی چراغ علی کے حالات موصوف کے پرانے دوست مولوی محمد زکریا سہارنپوری سے معلوم ہوئے اور زمانہ حیدر آباد کے اکثر حالات اور خطوط مولوی چراغ علی کے بھتیجے مولوی انوار الحق جو مرحوم کے پاس بچپن سے تھے سے معلوم ہوئے۔1 مولوی چراغ علی صاحب کے کچھ حالات مولوی عبد الحق صاحب کو مولوی چراغ علی کے فرزند مسٹر محبوب علی سپر نٹنڈنٹ مدرسہ حرفت و صنعت اور نگ آباد سے بھی ملے۔اور راقم الحروف نے حضرت مرزا صاحب کے خطوط کے حصول کیلئے جو مساعی کی ہے وہ درج ذیل ہے۔4-2- زیر بحث خطوط حضرت مرزا صاحب اور مشفق خواجہ مولوی عبد الحق صاحب نے مولوی چراغ علی کے بارے میں صرف ان کی مطبوعہ کتب دیکھ کر ہی اپنی آراء قائم نہیں کیں تھیں بلکہ ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے مسودے بھی دیکھے تھے۔اس سلسلے میں مولوی عبد الحق صاحب کا رابطہ مولوی چراغ علی مرحوم کے بھتیجے مولوی محمد علی صاحب سے بھی تھا جو نیک سیرتی اور سادگی میں اپنے والد مرحوم اور چچاؤں کی سچی یاد گار تھے۔ان شخصی و تحریری مآخذ کے علاوہ مولوی عبدالحق صاحب کا رابطہ مولوی چراغ علی کے فرزند سوم مسٹر محمود علی صاحب سے بھی تھا جنہوں نے مولوی چراغ علی صاحب کو لکھا ہوا ایک خط ڈاکٹر اسپر نگر کا دیا تھا۔تے ان قرائن کے باوجو د مولوی عبد الحق صاحب کے مقدمہ میں جو خطوط نقل کئے گئے ہیں وہ من و عن نہیں ہیں۔بہر کیف اس کی مزید کرید کی گئی تو معلوم ہوا کہ مولوی عبد الحق کے متعلق مشفق خواجہ سے زیادہ کسی کے پاس معلومات نہیں ہیں۔جب موصوف سے رابطہ کیا گیا تو آپ نے ناچیز کے استفسار کے جواب میں لکھا:۔“مولوی عبد الحق مرحوم نے جب اعظم الکلام کا مقدمہ لکھا تھا تو مولوی چراغ علی مرحوم کے ذاتی کاغذات انہیں مرحوم کے بھتیجے سے ملے تھے۔جو بعد استفادہ انہوں نے واپس کر دئے تھے۔۔۔۔۔میں نے خود مولوی عبد الحق سے اس بارے میں ایک مرتبہ پوچھا تھا انہوں نے یہی بتایا تھا کہ یہ کاغذات مرحوم کے بھتیجے کی تحویل میں تھے۔اور اگر مولوی صاحب کے پاس ہوتے بھی تو ان کا کراچی آنا ممکن نہ تھا کیونکہ انجمن کا دفتر دہلی میں لٹ گیا تھا۔۔۔۔۔انجمن میں مولوی صاحب سے متعلق جو کاغذات ہیں ان کی با قاعدہ فہرست موجود ہے اور یہ سب کاغذات میری نظر سے گزرے ہیں ان میں مرزا صاحب موصوف کا کوئی خط نہیں ہے۔7 4-3- خطوط حضرت مرزا صاحب اور مولوی چراغ علی کے افراد خانہ اس ممکنہ ذریعہ کے نہ ملنے پر مولوی چراغ علی صاحب کے بھتیجے کی تلاش شروع ہوئی تو مرزا ظفر الحسن غالب لائبریری کراچی نے لکھا کہ “ میں چراغ علی کے افراد خاندان سے ذاتی طور پر واقف ہوں ضرورت ہوئی تو ان کے نام لکھ بھیجوں گا۔نشر گاہ حیدر آباد کے بانی / مولوی چراغ علی کے فرزند تھے۔" 8