براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 48 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 48

48 براہین احمدیہ مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام second century۔The third and fourth centuries of the Muhammaden era passed on, and still no standard common code of jurisprudence was in force۔"" 26 یہاں پر مولوی چراغ علی صاحب خلاف منشاء مصنف حجۃ اللہ البالغہ (حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی مجدد) فقہ کی تحریری کتاب کی بابت بات کر کے اپنے صفحہ نمبر 43 کا استنباط کرتے ہیں جس کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے۔مولوی عبد الحق صاحب اس عبارت کا ترجمہ کرتے ہوئے فقہ کی تحریری کتاب Book of written law میں سے کتاب کا ذکر حذف کر کے “ تحریری مجموعہ قانون ” تحریر کرتے ہیں جو مولوی چراغ علی کے منشاء کو پوری طرح ظاہر نہیں کرتا۔بہر کیف ترجمہ ملاحظہ ہو:۔تاہم کوئی تحریری مجموعہ قانون باضابطہ نہ تھا۔اور نہ اون امامون کی ذاتی رائے کی نسبت کچھ ذکر تھا۔جو اپنی خوشی سے مسائل فقہ کی تحقیق کرتے تھے کہ آیا اون کی رائیں عام طور پر گورنمنٹ یا افراد پر مانا فرض ہیں یا نہیں۔دوسری صدی کے آخر تک یہی حالت رہی۔تیسری اور چوتھی صدی ہجری بھی یوں ہی گزر گئی اور اس وقت تک فقہ کے متعلق کوئی ضابطہ یا قانون جاری نہ ہوا۔"27 اب ملاحظہ ہو حضرت مجددشاہ ولی اللہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وہ عبارت جس کا حوالہ مولوی چراغ علی بطور فقہ کی تحریری کتاب کے دیتے ہیں لیکن شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کسی معین مذہب کی جملہ مسائل میں تقلید ” کے متعلق بات کرتے ہیں اس باب کا عنوان بھی حضرت شاہ ولی اللہ مجد د دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے چوتھی صدی ہجری سے پہلے اجتہاد اور تقلید کا کیا حال تھا؟’رکھا ہے۔اس حوالے کی بنیاد پر مولوی چراغ علی صاحب نے اپنی عبارت صفحہ 42 کی عمارت استوار کی ہے۔لیکن وہ خلافِ منشاء مصنف ہے لہذا اُن کی دلیل بے بنیاد ہے۔اس طرح کی بے بنیاد باتوں پر مولوی چراغ علی صاحب اپنی شتر بے مہار بننے کی بناء ڈالتے ہیں۔اور “ عظم الكلام۔کی عمارت استوار کرتے ہیں۔حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت ملاحظہ ہو اسے موصوف کی اوپر درج کی گئی عبارت کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے جسے سہولت کی خاطر دوبارہ درج کیا جاتا ہے : چوتھی صدی سے پہلے لوگوں میں یہ خیال اور عقیدہ شائع و ذائع نہیں تھا کہ کسی معین مذہب کی جملہ مسائل میں تقلید کرنا ضروری ہے۔ابو طالب مکی (جو ایک مشہور صوفی بزرگ ہیں) اپنی معرکۃ الآراء تصنیف قوت القلوب میں لکھتے ہیں۔یہ تصنیفات اور یہ مجموعے قرون اولی کے بعد کی پیداوار ہیں، قرن اول اور قرن شانی میں یہ باتیں مطلق نہیں تھیں کہ فلاں کا قول یہ ہے اور فلاں یہ کہتا ہے یا یہ کہ ہمیشہ کسی ایک عالم مجتہد کے مذہب پر فتویٰ دیا جائے ہر ایک مسئلہ میں اسی کے قول کو سند مانا جائے اور اسی کا حوالہ دیا جائے اور جو عالم بننا چاہے وہ صرف کسی ایک عالم مجتہد کے مذہب میں تجر حاصل کرے۔“ میں کہتا ہوں (حضرت شاہ صاحب کہتے ہیں ) دوسرے قرن کے بعد فی الجملہ ان میں تخریج نے پنپنا شروع کیا۔چوتھی صدی ہجری تک یہ کیفیت تھی کہ لوگ بالخصوص کسی ایک مذہب کی تقلید کرنا اور صرف اس کا علم حاصل کرنا ضروری نہیں سمجھتے تھے۔جیسے کہ واقف حال علماء سے مخفی نہیں۔۔۔28 * - Compare with Valiullah's Hujjatul Baligha chapter iv of the supplement, page 158