براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 45
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 45 صاحب تو حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی طرف اپنا جھکاؤر کھتے تھے۔اسی روش و جھکاؤ کے بارے میں W۔C۔Smithنے لکھا کن "Chiragh Ali, whose pen had much controversial force۔He was a government servant who had begun in a Petty position and rose gradually and steadily۔He had been disturbed by the missionaries criticism of his religion۔For a time before meeting Sir Sayyid, he was attracted to Mirza Ghulam Ahmad of Qadian and his method of countering those criticism۔When he came in contact with the Aligarh movement, he transferred to it his enthusiastic support۔"15 ترجمہ : “ چراغ علی کی تحریرات میں بہت اختلافی قوت تھی۔موصوف ایک سرکاری اہلکار تھے۔جنہوں نے ملازمت کا آغاز ایک معمولی حیثیت سے کیا اور اس میں بڑی باقاعدگی سے آہستہ آہستہ ترقی کر کے بڑا مقام پایا۔انہیں عیسائی مشنریوں کے اُن کے مذہب پر حملوں نے پریشان کر دیا تھا۔سرسید سے ملاقات سے قبل (چراغ علی ) ان حملوں کا دفاع کرنے کے لئے مرزا غلام احمد آف قادیان کے طریق دفاع کی طرف جھکے۔جب علی گڑھ تحریک سے روابط بڑھے تو موصوف نے اس جوش و خروش کو علی گڑھ تحریک کو منتقل کر دیا۔” اس اقتباس میں تو مستشرق موصوف نے یہ بیان کیا ہے کہ مولوی چراغ علی صاحب کو جب عیسائی مشنریوں کے اعتراضات نے پریشان کیا تو موصوف حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی طرف ان کے عیسائی مشنریوں کے طریق دفاع کی طرف لپکے لیکن مولوی عبد الحق صاحب اس کے بر عکس ثابت کرنا چاہتے تھے جو بالبداہت درست نہیں ہے۔بعد میں آنے والوں نے مولوی عبد الحق صاحب کا حوالہ دیئے بغیر ہی یہاں تک لکھا کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے کتاب موسومہ “ براہین احمدیہ ” میں انہوں (مولوی چراغ علی ) نے بیش قیمت مدد پہنچائی۔کے اب اس مدد کا احوال نہ تو مولوی عبد الحق صاحب کے پاس ہے اور نہ ہی علامہ اقبال کی معلومات کا ثبوت کہیں چھپا ہے۔بعد میں مولوی چراغ علی کے روابط سرسید کے ساتھ استوار ہو گئے جنہوں نے برہمو سماج کے انداز میں علی گڑھ تحریک چلائی۔17 بر ہمو سماج وہی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفت تکلم کے منکر ہیں۔18 کیونکہ سرسید کی تحریک کا اند از برہمو سماج جیسا تھا۔یہ لوگ بھی خدا تعالیٰ کی صفت تکلم کے منکر تھے۔غالباً اسی کے اتباع میں سر سید نے جو تفسیر القرآن میں بعض آیات کی تشریح ایسی کی ہے جس کو مولانا حالی جیسے سرسید کے مداح بھی نا مناسب اور غیر مصلحت آمیز سمجھتے تھے۔12 اور اسی قسم کی تفسیر و تاویل مولوی چراغ علی صاحب کی ہے جس کا احوال اس مضمون کے تقابلی حصے میں درج کیا گیا ہے۔اور جہاں تک سمتھ کی رائے مولوی چراغ علی صاحب پر اثرات کا تعلق ہے اس سلسلہ میں ملاحظ ہو زیر نظر کتاب کا حصہ 11 -5- 3-3- اسپر نگر کی رائے دربارہ “ ا عظم الکلام۔۔۔عیسائی مذہب کی حمایت میں لکھی جانے والی کتابوں میں افضل کتاب ”۔میں حیران ہوں کہ مولوی عبد الحق صاحب کے اس بہ عجلت اخذ کردہ نتیجہ کے بارے میں کیا رائے دی جائے۔جبکہ کوئی بھی وجہ امتیاز مولوی چراغ علی کی تحریرات میں نظر نہیں آتی بلکہ انکی تحریرات سے الٹا نقصان پہنچا معلوم ہوتا ہے۔مشہور مستشرق ڈاکٹر اسپر نگر نے مولوی چراغ علی کو ان کی کتاب کے بارے میں لکھا:۔جس قدر کتا ہیں کہ عیسائی مذہب کی حمایت میں لکھی گئی ہیں یہ کتاب اگر ان سے افضل نہیں تو ان کے برابر ضرور ہے۔20