براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page vi
66 میں ایسا ثابت قدم نکلا جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت کم ہی پائی گئی۔“ اخبار منشور محمدی بنگلور کے مدیر شہیر جناب مولوی محمد شریف صاحب بنگلوری نے یوں تبصرہ کیا:۔سبحان اللہ کیا تصنیف منیف ہے کہ جس سے دین حق کا لفظ لفظ سے ثبوت ہورہا ہے۔ہر ایک لفظ سے حقیقت قرآن و نبوت ظاہر ہو رہی ہے۔کتاب براہین احمدیہ ثبوت قرآن و نبوت میں ایک ایسی بے نظیر کتاب ہے جس کا ثانی نہیں۔۔۔مسلمانوں کے لئے تقویت کتاب الجلیل ہے۔ام الکتاب کا ثبوت ہے۔بے دین حیران ہے مبہوت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کتاب کی اشاعت کے لئے بعض سرکردہ اور نامی مسلمان رؤساء و والیان ریاست کو مالی اعانت کے لئے بھی لکھا تھا تا ان کو بھی تبلیغ اسلام کی مہم میں شامل کر کے ثواب کا موقع نصیب ہو۔چند رؤسا کی طرف سے اعانت کا وعدہ ہوا بعض نے اعانت بھی کی لیکن اکثر نے بے حسی کا مظاہرہ کیا۔اعانت کرنے والوں میں مولوی چراغ علی صاحب معتمد مدارالمہام دولت آصفیہ حیدر آباد دکن بھی شامل تھے۔جن کی مالی اعانت اس عظیم الشان خدمت کا ایک ادنی اعتراف تھا۔قطبی ستارہ جیسی عظمت و شہرت کی حامل اس کتاب کے حاسد بھی پیدا ہوئے۔برا ہو تعصب کا جواس کتاب لاجواب کے بارہ میں یہ نکتہ چینی کرنے لگے کہ اس کتاب کے لئے حضور نے حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب، سرسید احمد خاں صاحب اور مولوی سید چراغ علی صاحب سے بطور علمی اعانت بھی بعض مضامین میں مدد لی تھی۔اس قسم کا اعتراض مولوی عبدالحق صاحب بابائے اُردو نے بھی اُٹھایا ہے۔انہوں نے مولوی چراغ علی صاحب کی ایک انگریزی کتاب کا ترجمہ اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام کے نام سے کیا تو اس کے مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض خطوط کو قطع و برید سے پیش کر کے یہ نتیجہ نکالا کہ مولوی چراغ علی صاحب سے مرزا صاحب نے بعض مضامین براہین احمدیہ کے لئے مدد لی۔یہ ایک بے بنیاد اور بلا ثبوت اعتراض تھا جس کا مدلل اور کافی وشافی جواب عاصم جمالی صاحب نے زیر نظر مطالعہ میں دے کر بلاشبہ ایک علمی خدمت انجام دی ہے۔خاکسار نے مکرم مجیب الرحمن صاحب ایڈووکیٹ کی خدمت میں یہ کتاب بغرض تبصرہ بھجوائی تو انہوں نے تحریر فر مایا کہ عاصم جمالی صاحب نے اس مقالہ میں تحقیق کا حق ادا کر دیا اور اس قابل ہے کہ شائع ہو، قبل ازیں جناب ثاقب زیر وی مرحوم نے خدمت سلسلہ کے لئے کی گئی اس محنت اور عرق ریزی پر مصنف کو مبارک باد دی تھی اور جناب مسعود احمد خان صاحب دہلوی مرحوم نے اسے علمی مشقت کا آئینہ قرار دیتے ہوئے مصنف کے وسیع مطالعہ کی داددی۔