براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page v of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page v

سم الله الرحمن الرحيم دیباچه آخری زمانہ کے امام مسیح و مہدی کے متعلق رسول اللہ علے کی پیشگوئی تھی وہ مال لٹائے گا اور کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔اس سے مراد دراصل وہ مخفی روحانی خزانے تھے جو اسلام کی شان و شوکت اور عظمت قائم کرنے کے لئے اس نے دنیا میں عام کرنے تھے۔حضرت بانی جماعت کو اللہ تعالیٰ نے انیسویں صدی کے پر آشوب دور میں اس وقت کھڑا کیا جب ہندوستان کے عیسائی اپنی حکومت کے بل بوتے اسلام پر حملہ آور تھے۔آپ نے دفاع اسلام واحیائے دین کا فریضہ ایک فتح نصیب جرنیل کی طرح ادا کر کے دکھایا۔آپ کی پہلی معرکہ آراء کتاب براہین احمدیہ نے ہی فرش سے عرش تک ایک تہلکہ بر پا کر دیا۔عرش الہی پر اس کا نام قطبی رکھا گیا۔جو ظاہر کرتا تھا کہ یہ کتاب اپنے دلائل و براہین اور انوار برکات لے لحاظ سے قطب ستارے کی مانند افق پر طلوع ہو کر دنیا کی رہنمائی کا موجب بنے گی۔پھر واقعی ایسا ہی ہوا۔1880 ء میں اس کتاب کا پہلا حصہ شائع ہوا۔تو اس میں آپ نے مذاہب عالم کو دس ہزار روپے کا انعامی چیلنج دیتے ہوئے یہ پر شوکت اعلان فرمایا کہ وہ دلائل جو حقیقت فرقان مجید اور صداقت رسالت حضرت خاتم النبین ﷺ کے لئے آپ نے پیش فرمائے ہیں، کوئی شخص اپنی الہامی کتاب سے آدھا یا تہائی یا چوتھائی یا پانچواں حصہ ہی نکال کر دکھلائے یا آپ کے دلائل کو ہی توڑ دے۔تو آپ اسے بلا تامل دس ہزار روپے کی اپنی جائیداد پیش کر دیں گے۔اس کتاب کے آتے ہی جہاں اسلامیان ہند کے سر فخر سے بلند ہو گئے وہاں مخالفین اسلام کے کیمپ میں ایک کھلبلی مچ گئی۔دراصل حضرت بانی جماعت احمدیہ نے کفر و الحاد کے سیلاب کے آگے ایک بند باندھ دیا تھا اور کا سر صلیب نے عیسائیت کا قلعہ پاش پاش کر کے رکھ دیا۔براہین احمدیہ کی تصنیف پر اہل علم طبقہ کی طرف سے اس کو غیر معمولی خراج تحسین پیش ہوئی۔اہل حدیث لیڈر مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی صاحب نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں لکھا:۔”ہمارے رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت