براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 38
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 38 تنہا صاحب کی کتاب میں مواد بہم پہنچانے والوں میں مولوی عبد الحق کا نام بھی شامل ہے۔محمد بیٹی تنہا صاحب کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں۔“سب سے زیادہ لائق تحسین و تشکر شیخ محمد اسماعیل صاحب احمدی پانی پتی ہیں جنہوں نے تیسرے دور کے اکثر مصنفین کے حالات زندگی مطبوعہ و غیر مطبوعہ کا بہت سامواد مجھے بہم پہنچایا۔مولوی عبد الحق صاحب بی۔اے سیکر ٹری انجمن ترقی اردو اورنگ آباد، مولوی ظفر الملک ایڈیٹر الناظر لکھنو، مولوی بشیر الدین احمد دہلوی اور بابو رام دیال صاحب فنانشل سیکرٹری ریاست جادرہ بھی میرے دلی شکریے کے مستحق ہیں جنہوں نے مجھے کتابیں بہم پہنچائیں یا ان کے دستیاب ہونے کے وسائل بتائے یاضروری مضامین نقل کروا کر روانہ کئے 76 مولوی عبد الحق صاحب اپنے ایک خط بنام عبادت بریلوی لکھتے ہیں : اس مرتبہ جو میں نے اپنے مقدمات پڑھے تو یہ میری نظر سے گر گئے میری رائے میں ان کا شائع کرنا کچھ مفید نہ ہو گا۔آپ اس پر غور کر لیجئے۔ان پر محنت، وقت اور روپیہ صرف کرنا بے سود تونہ ہو گا۔آپ بے رو رعایت اپنی رائے لکھئے۔بعض مقدمے فضول اور بہت طویل ہیں۔اگر آپ کی قطعی رائے شائع کرنے کی ہو تو بعض کو مختصر کرنا ہو گا اور بعض بالکل خارج کر دیئے جائیں۔البتہ مقالات میں اکثر ایسے ہیں جو قابل اشاعت ہیں۔77 ڈاکٹر عبادت بریلوی صاحب نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ میں نے ان خیالات کو ان کی شخصیت کی عظمت کا نتیجہ سمجھا۔اس سے نہ تو طویل مقدمات کو مختصر کیا اور نہ ہی ان میں سے بعض خارج کئے۔جس صورت میں یہ لکھے گئے تھے۔بالکل اسی صورت میں اس وقت بھی شائع کئے جار ہے ہیں۔(ایضاً) مولوی عبد الحق صاحب نے جو خطوط حضرت مرزا صاحب کے نقل کئے ہیں۔ان خطوط کی اندرونی شہادت ہی اس ادعا کو جھٹلارہی ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے مولوی چراغ علی کی کسی قسم کی مدد اپنی تصنیف براہین احمدیہ میں شامل کی ہو اور حوالہ ہی نہ دیا ہو تا ہم مولوی عبد الحق صاحب نے مذکورہ خطوط کے ذکر کرنے کے فوری بعد مولوی چراغ علی کے دیگر علماء کی کتابوں میں جس قسم کی مدد دینے کا ذکر کیا ہے وہ مالی اعانت ہے نہ کہ قلمی (سطور بالا میں مقدمہ اعظم الکلام صفحہ 25-26 کے حوالے سے اس کا ذکر کیا جا چکا ہے) اور اس قسم کی مالی استمداد کا تذکرہ براہین احمدیہ کے مالی معاونین و خریداروں کے اندراج میں ہمیں کتاب مذکور میں مولوی چراغ علی کے نام سے ملتا ہے۔2-9- جناب شیخ یعقوب علی عرفانی کے نام مولوی عبد الحق کے دو خطوط: جب مولوی عبد الحق صاحب اور نگ آباد میں تھے تو مصنف “ حیات احمد ” نے 1930ء میں اس بارے میں آپ سے (مولوی عبد الحق صاحب سے رابطہ کیا تو موصوف نے جواب میں لکھا کہ میرے پاس وہ مکتوبات نہیں ہیں۔میں حیدر آباد جاؤں گا تو کوشش کروں گا۔مصنف مذکور کی یاددہانی پر مولوی عبد الحق صاحب نے پنجارہ روڈ حیدر آباد دکن سے جو خط لکھا اس سے عیاں ہے کہ مولوی عبد الحق صاحب کی طرف سے یہ نکتہ چینی بہ عجلت اور عدم تدبر سے کی گئی کیونکہ بعد میں موصوف نے اس سے کچھ سروکار نہ رکھا۔مذکورہ خط میں مولوی صاحب نے لکھا کہ “ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔جن صاحب کے پاس وہ خطوط تھے ان کا انتقال ہو گیا۔اب ان خطوط کا ملنا محال ہے۔مولوی چراغ علی مرحوم کے بیٹوں میں کسی کو اس کا ذوق نہیں بہر حال ان خطوط کے ملنے کی کوئی توقع نہیں۔آپ نے براہین احمدیہ کے سلسلے کے متعلق دریافت فرمایا ہے۔مجھے مطلق یاد نہیں اور نہ مجھے اب ان چیزوں سے کچھ سروکار ہے۔مجھے افسوس ہے کہ ان امور میں میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔78