براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 8 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 8

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 1-6 - براہین احمدیہ میں مولوی چراغ علی کی مالی معاونت کا تذکرہ 8 درج ذیل مقامات پر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے مولوی چراغ علی صاحب کا نام براہین احمدیہ میں بطور اعانت طبع کتاب درج کیا ہے۔بر این احمد یہ حصہ اول صفحہ 3 اور 11 محض بطور اعانت طبع کتاب عطر (یعنی دس روپے۔ناقل ) ہے۔1-7۔مصنف براہین احمدیہ کا کسی امداد یا معاونت کے بارے میں کیا خیال تھا آپ کے امداد / مد دیا اعانت کے بارے میں کیا خیالات ہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ : “ اس خداوند عالم کا کیا کیا شکر ادا کیا جائے کہ جس نے اول مجھ ناچیز کو محض اپنے فضل اور کرم اور عنایت غیبی سے اس کتاب کی تالیف اور تصنیف کی توفیق بخشی اور پھر اس تصنیف کے شائع کرنے اور پھیلانے اور چھپوانے کے لئے اسلام کے عمائد اور بزرگوں اور اکابر اور امیروں اور دیگر بھائیوں اور مومنوں اور مسلمانوں کو شائق اور راغب اور متوجہ کر دیا۔پس اس جگہ ان تمام حضرات معاونین کا شکر کرنا بھی واجبات سے ہے کہ جن کی کریمانہ توجہات سے میرے مقاصد دینی ضائع ہونے سے سلامت رہے اور میری محنتیں برباد جانے سے بچ رہیں۔میں ان صاحبوں کی اعانتوں ایسا ممنون ہوں کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ جن سے میں اُن کا شکر ادا کر سکوں بالخصوص جب میں دیکھتا ہوں کہ بعض صاحبوں نے اس کار خیر کی تائید میں بڑھ بڑھ کے قدم رکھے ہیں اور بعض نے زائد اعانتوں کے لئے اور بھی مواعید فرمائے ہیں تو یہ میری ممنونی اور احسان مندی اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔20 پھر آپ کتاب کے اواخر میں بھی لکھتے ہیں کہ “ اس جگہ ان نیک دل ایمانداروں کا شکر لازم ہے جنہوں نے اس کتاب کے طبع ہونے سے آج تک مدد دی ہے خدا تعالیٰ ان سب پر رحم کرے”۔21 فی الواقعہ طباعت کتاب براہین احمدیہ میں جن لوگوں نے اعانت کی وہ ہی مدد تھی جو حضرت مرزا صاحب نے بصد ، تشکر و امتنان لی وگرنہ دیگر سب امور اتہام و بد گمانیاں ہیں۔آپ کتاب کے اواخر پر بعنوان ہم اور ہماری کتاب رقم فرماتے ہیں۔“ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی۔پھر بعد اس کے قدرت الہیہ کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی۔یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے انی انا ربک کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتم ظاہر او باطنا حضرت رب العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے نہم اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک اسرار حقیقت اسلام کے لئے ظاہر کئے ہیں اتمام حجت کے لئے کافی ہیں۔"22 1-8- براہین احمدیہ کے مضامین کی اجمالی تفصیل حقیقت کچھ یوں محسوس ہوتی ہے کہ اعتراض کرنے والے نے براہین احمدیہ کا جیسے بالاستیعاب ( Inquire into all details) مطالعہ ہی نہ کیا ہو۔یہ کتاب اپنے بنیادی اور اصولی محکم دلائل کی بنیاد پر اسلام کی حقانیت اور صداقت پر آپ کی باقی تمام کتب کے لئے متن کے طور پر اور باقی سب اس کی شرح ہیں۔23 ذیل میں مختصر ابراہین احمدیہ کے چند مضامین کی تفصیل دی جاتی ہے اس غرض سے کہ سرسید اور مولوی چراغ علی صاحبان کی تحریرات میں بھی کیا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے بیان کردہ منظوم سینکڑوں اردو، فارسی اشعار، کشوف، الہامات اور دیگر مضامین اُسی قطعیت اور شان و شوکت کے ساتھ موجود ہیں جو آپ نے ایک ایسے مصور کی طرح لکھے ہیں جو اپنے فن میں ید طولیٰ رکھتا ہو وگرنہ دیگر اصحاب نے اگر ان مضامین کو چھوا ہے تو ایک طفل مکتب سے زیادہ ان میں کوئی