براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 7 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 7

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 7 مولوی عبد الحق کے ایک قریبی رفیق کے بقول مولوی چراغ علی کی اِس کتاب کا نام زیادہ تر مولوی عبد الحق کے اردو ترجمے (اور مقدمے کی بدولت باقی رہ سکا ہے۔12 مولوی عبد الحق صاحب کے مقدمہ زیر نظر میں وہ مندرجات جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی کتاب براہین احمدیہ کے بارے میں ایسے ہیں کہ جن کا مناسب محاکمہ از بس ضروری ہے۔کیونکہ ان میں بھی مولوی عبد الحق صاحب کو جتنی چھان پھٹک کی ضرورت تھی اسے استعمال نہیں کیا بلکہ اپنے ممدوح مولوی چراغ علی کو اُن کے مقام سے عمد أضرورت سے زیادہ بلند کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اس امر کی تردید خود مولوی عبد الحق کے مقدمہ ہی سے ہوتی ہے۔جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے کہ مولوی عبد الحق کچھ صفحات پہلے پر مولوی چراغ علی کی تحریر کو ایک سردمہر منطقی اور ایک دنیا دار کی جوش و حرارت سے عاری تحریر قرار دیتے ہیں۔مگر چند ہی صفحات بعد اسے ایک نہایت پر زور مدلل اور جامع کتاب قرار دیتے ہیں۔مولوی عبد الحق صاحب کا یہ تناقض بدیہی بطلان ہے۔ان امور کے مطالعے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولوی عبد الحق کو جوشِ عقیدت میں (جو ان کو مولوی چراغ علی سے تھا) کچھ باتیں زیب داستاں کے طور پر بھی موصوف سے معنون کر دینا چاہتے ہیں۔اور اس رائے کے قائم کرنے میں بھی مولوی صاحب کو جتنی چھان پھٹک کی ضرورت تھی اسے بوجوہ چند در چند بالائے طاق رکھ کر جو لکھا ہے وہ مولوی عبد الحق کی ثقاہت کو پایہ اعتبار سے گرا دیتا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ :۔“ اس موقع پر یہ واقعہ دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ جس وقت ہم مولوی صاحب مرحوم (مولوی چراغ علی) کے حالات کی جستجو میں تھے تو ہمیں مولوی صاحب کے کاغذات میں سے چند خطوط مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مرحوم کے بھی ملے ، جو انہوں نے مولوی صاحب ( چراغ علی ) کو لکھے تھے اور اپنی مشہور اور پر زور کتاب“ براہین احمدیہ کی تالیف میں مدد طلب کی تھی۔17 1-5 - براہین احمدیہ میں مولوی چراغ علی کی مالی معاونت تھی نہ کہ علمی امداد اس کے بعد مولوی عبد الحق صاحب نے جناب حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے خطوط سے مفید مطلب اقتباسات دینے کے بعد جو رائے لکھی ہے وہ ملاحظہ ہو !! ان تحریروں سے ایک بات تو یہ ثابت ہوتی ہے کہ مولوی صاحب مرحوم ( مولوی چراغ علی ) نے مرزا صاحب مرحوم کو براہین احمدیہ کی تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی ہے۔دوسرے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب مرحوم کو حمایت و حفاظت اسلام کا کس قدر خیال تھا۔یعنی خود تو وہ یہ کام کرتے ہی تھے مگر دوسروں کو بھی اس میں مدد دینے سے دریغ نہ کرتے تھے۔چنانچہ جب مولوی احمد حسن صاحب امروہی نے اپنی کتاب تاویل القرآن شائع کی تو مولوی صاحب نے بطور امداد کے سو روپیہ مصنف کی خدمت میں بھیجے۔اسی طرح جو لوگ حمایت اسلام میں کتابیں شائع کرتے تھے ان کی کسی نہ کسی طرح امداد کرتے تھے اور اکثر متعد د جلدیں ان کتابوں کی خرید فرماتے تھے۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب کی کتاب پیغام محمدی کی کئی سو جلد میں خرید کر دکن میں تقسیم کر دیں۔" 18 بعینہ یہی طریق مولوی چراغ علی نے حضرت مرزا صاحب کے متعلق بھی اختیار کیا۔جس کا تذکرہ حضرت مرزا صاحب نے اپنے ایک اشتہار میں کیا جو تصنیف کتاب براہین احمدیہ بہت اطلاع جمیع عاشقان صدق و انتظام سرمایہ ء طبع کتاب میں جو اخبار سفیر ہند امر تسر اور “منشور محمدی بنگلور 5 جمادی الاولی 1296ھ (1879) میں چھپا تھا۔اشتہار کے آخر پر اپنا اتا پتا دینے کے بعد لکھا:“ مکرر بڑی شکر گذاری سے لکھا جاتا ہے کہ حضرت مولوی چراغ علی خاں صاحب نائب معتمد مدار المهام دولت آصفیه حیدر آباد دکن نے بغیر ملاحظہ کسی اشتہار کے خود بخود اپنے کرم ذاتی و ہمت اور حمایت و حمیت اسلامیہ سے بوجہ چندہ اس کتاب کے ایک نوٹ دس روپیہ کا بھیجا ہے۔" 1999