براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 201
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 201 اگر اب تک 2006ء سے 2011ء تک انجمن ترقی اردو (پاکستان) کراچی یہ درستی نہیں کر سکی تو لگے ہاتھوں جب بھی کہانی رانی کیتکی کی انجمن چھاپے تو اس سے بطور مرتب مولوی عبدالحق کا نام حذف کر کے مولانا امتیاز علی عرشی کا نام درج کرے اور اسی طرح انجمن جب بھی مولوی عبد الحق کی کتاب “ چند ہم عصر چھاپے جس میں مولوی چراغ علی سے متعلق مولوی عبد الحق صاحب کے مقدمہ کا مواد ہی درج ہو تا ہے جس میں حضرت مرزا صاحب کے مولوی چراغ علی صاحب کے نام خطوط کا ذکر ہوتا ہے۔تو وہیں مضمون زیر نظر کا حوالہ بھی حاشیہ میں دیا جانا چاہیے۔تاکہ اصل حقیقت قارئین کے سامنے آسکے۔جیسے انجمن نے مولانا سید امتیاز علی عرشی سے متعلق اصل حقیقت کو خلیق انجم کی کتاب میں چھاپ دیا ہے۔جو انجمن ترقی اُردو پاکستان کراچی ہی کے زیر اہتمام چھپی ہے۔اسی طرح اُسے ان حقائق کو جہاں کہیں بھی یہ متنازعہ مواد چھپے وہاں ایک دو سطروں میں اس مضمون کا حوالہ بھی دے دینا چاہئے جو دیانت داری کا تقاضہ ہے۔اسی طرح مجلس ترقی ادب لاہور کی شائع کردہ کتاب “تحریک آزادی میں اُردو کا حصہ “۔2008ء مصنفہ ڈاکٹر معین الدین عقیل کے صفحہ 218 و غیرہ پر اسی ناواجب اعتراض کا ذکر ہے جس کے ساتھ اس مضمون کا حوالہ بھی دیا جانا اخلاقی تقاضا ہے۔اس امر کا خصوصی طور پر نام لے کر اعادہ کیا جاتا ہے کہ محولہ بالا کتاب کو 1976 ء سے انجمن ترقی اُردو پاکستان کراچی کے مدارالمہام جناب جمیل الدین عالی صاحب اور 2008ء سے اور مجلس ترقی ادب لاہور کے ڈائریکٹر جناب شہزاد احمد صاحب (ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب کے توسط سے ) شائع کر رہے ہیں۔جب کہ اس کتاب کے پیش لفظ اشاعت اول میں عقیل صاحب کے اپنے ہی الفاظ جو زیر عنوان معروضات لکھے گئے یہاں دوہرائے جاتے ہیں۔: علمی تحقیق کے اِس دور میں کسی مطالعہ کو بھی حرف آخر کی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی۔آج علم کے نئے نئے گوشے اُجاگر ہو رہے ہیں اور متعد د حقائق منظر عام پر آرہے ہیں، چنانچہ کوئی بھی تحقیق اس لحاظ سے جامعیت کی دعوے دار نہیں ہو سکتی۔اس موضوع پر جو نقطہ نظر میں نے اپنایا ہے اسے دستیاب شہادتوں اور مثالوں کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔"3 مذکورہ ہر دو اداروں اور مصنف مذکور کی خدمت میں اور دیگر قارئین کی خدمت میں اس کتاب / مضمون میں درج کی گئیں شہادتیں بھی نہایت ادب سے پیش کی جاتی ہیں جیسے کہ مصنف مذکور درج بالا اقتباس کے آگے لکھتے ہیں: “میں اپنے اِن پیش کردہ خیالات کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور اس مقالے کو پورے عجز و انکسار سے اہل نظر کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔“ 4 امید کی جاتی ہے زیر حوالہ وقیع ادارے اور فاضل مصنف “ پوری ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ناچیز کے اس مقالہ کو بھی حسب دلخواہ پذیرائی بخشیں گے جو اُسی طرح پورے عجز و انکسار سے اہل نظر کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے کیونکہ انھیں کے الفاظ میں کسی مطالعہ کو بھی حرف آخر کی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی “ تو اس بلا جو از اعتراض کو بھی حرف آخر کے حیثیت نہیں حاصل ہو سکتی۔دوستو! اک نظر خدا کے لئے سید الخلق مصطفے کے لئے 8-3 - جناب پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب کا ایک محاکمہ نما مکتوب بابت کتاب ہذا جناب پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب کی خدمت میں زیر نظر کتاب کا مسودہ پہلے سے ٹیلی فون پر اجازت لیکر برائے محاکمہ ارسال کیا گیا تھا لیکن پروفیسر صاحب موصوف نے ایک نوازش نامہ بھجوایا جس میں درج کیا کہ: “ میں ان پر اپنی جانب سے کسی محاکمے کی ضرورت، آپ کی خواہش کے باوجو د نہیں سمجھ رہا۔پھر میرے پاس اس موضوع