براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 190 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 190

براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 190 مئی 1897ء میں حسین کامی نام ایک ترکی سفیر حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود سے شرف ملاقات حاصل کرنے قادیان آیا۔آپ نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھا اور سفیر مذکور کو ان مصائب و آفات سے مطلع و متنبہ فرمایا جو گورنمنٹ لڑکی کے واسطے مقدر تھیں۔آپ نے حسین کامی کو بتلایا کہ مجھے کشفی طور پر معلوم ہو ا ہے کہ سلطان روم کے ارکان سلطنت کی حالت اچھی نہیں اور موجودہ حالات میں انجام اچھا نہیں ہو سکتا۔حضرت کی اس صاف گوئی سے سفیر مذکور چڑ گیا اور ایسا بگڑا کہ قادیان سے لوٹ کر لاہور کے ایک اخبار میں اس نے ایک مضمون آپ کے خلاف چھپوایا جس میں حضرت مسیح موعود کے خلاف بد گوئی اور دل آزار کلمات سے خوب ہی دل کا بخار نکالا تھا۔اس پر حضرت اقدس نے ایک اشتہار شائع فرمایا۔اس کے چند مقامات کا اقتباس یہاں بے محل نہ ہو گا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: “ اس ترکی سفیر کے سامنے جو قادیان آیا تھا۔میں نے کئی اشارات سے اس بات پر بھی زور دیا کہ رومی سلطنت خدا کے نزدیک کئی باتوں میں قصور وار ہے اور خدا سچی تقویٰ اور طہارت اور نوع انسان کی ہمدردی کو چاہتا ہے اور روم کی حالتِ موجودہ بربادی کو چاہتی ہے۔تو بہ کرو تانیک پھل پاؤ۔مگر میں اُس کے دل کی طرف خیال کر رہا تھا کہ وہ ان باتوں کو بہت ہی بر امانتا تھا۔اور یہ ایک صریح دلیل اس بات پر ہے کہ روم کے اچھے دن نہیں ہیں اور پھر اس کا بد گوئی کے ساتھ واپس جانا یہ اور دلیل ہے کہ زوال کے علامات موجود ہیں۔میں نے یہ بھی اُس کو کہا کہ خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں مجھ سے علیحدہ رہے گا وہ کاٹا جائے گا۔بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ۔اور میں خیال کر تا تھا کہ یہ تمام باتیں تیر کی طرح اس کو لگتی تھیں اور میں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ جو کچھ خدا نے الہام کے ذریعہ فرمایا تھا وہی کہا تھا۔" اسی اشتہار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الہام الہی کی بنا پر اپنے کچھ خیالات ظاہر فرمائے تھے جو حسب ذیل ہیں: “سلطان روم کی سلطنت کی حالت اچھی نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔" ایک اور مقام پر حضرت اقدس فرماتے ہیں: “بادشاہ اور خلیفہ المسلمین اور امیر المومنین کہلا کر بھی خدا کی طرف سے بے پروائی اچھی بات نہیں۔مخلوق سے اتناڈر نا کہ گویا خدا کو قادر ہی نہیں سمجھنا۔یہ اک قسم کی سخت کمزوری ہے لوگ کہتے ہیں کہ وہ حافظ الحرمین ہے مگر ہم کہتے ہیں: حرمین اس کی حافظ ہے حرمین کی برکت اور طفیل سے اب تک وہ بچا ہوا ہے۔جو مذ ہبی آزادی اس ملک میں ہمیں نصیب ہے ، وہ مسلمان ممالک میں خود مسلمانوں کو بھی نصیب نہیں۔" یہ امر قابل غور ہے کہ جب سے مکہ معظمہ ترکوں کے ہاتھ سے نکلا ہے تب ہی سے ان کا زوال شروع ہوا ہے۔جس کا ایک عبرت خیز نتیجہ تو یہی دیکھ لیجئے کہ وہ بغد اد اور یروشلم جیسے اہم مقامات بھی کھو بیٹھے ہیں۔پھر آپ نے ( یعنی حضرت مرزا صاحب مسیح موعود) اپنی کتاب الهدی مطبوعہ 1902ء کے صفحہ 29 پر تحریر فرمایا کہ :