براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 189
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 189 “ اور حدیثوں کی رُو سے بھی ثابت ہو تا ہے کہ مہدی کے ظہور کے وقت ترکی سلطنت کچھ ضعیف ہو جائے گی اور عرب کے بعض حصوں میں نئی سلطنت کے لیے کچھ تدبیریں کرتے ہونگے اور ترکی سلطنت کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوں گے۔سو یہ علامات مہدی موعود اور مسیح موعود کی ہیں جس نے سوچنا ہو سوچے۔"25 نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی بعض احادیث سے استنباط کر کے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی نے جو پیشگوئی بیان فرمائی تھی اس کا ظہور بھی بفضل خد احرف بحرف پورا ہو گیا ہے۔جس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔اس بارے میں حضرت مولوی شیر علی صاحب بی۔اے مترجم قرآن شریف به زبان انگریزی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں: “یہ 1892ء کا واقعہ ہے کہ آپ نے اس پیشگوئی کو شائع فرمایا۔اور موجودہ جنگ کے دوران اس کی صداقت پایہ ثبوت کو پہنچ گئی۔اس طرح کہ سر زمین حجاز میں حکمت الہی سے نئی حکومت قائم ہو گئی۔مکہ معظمہ اس کا دارالخلافہ قرار پایا اور شریف مکہ اس جدید سلطنت کا تاجدار "26 وہ پیشگوئیاں جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے ترکی سلطنت کے متعلق فرمائیں اور جو پوری بھی ہو چکی ہیں۔چنانچہ از انجملہ آپ نے حسب ذیل پیشگوئی 4 جنوری 1904ء کو شائع کی تھی جو ریویو آف ریلیجنز جنوری 1904 نیز اخبار الحکم و بدر میں چھپی تھی: غُلِبَتِ الرُّوْهُ فِي آذَنِّي الْأَرْضِ وَ هُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيُغْلَبُوْنَ “۔ترجمہ : رومی سلطنت والے ایک قریب کی سر زمین میں مغلوب ہو جائیں گے مگر اپنی شکست کے بعد جلد ہی غالب آجائینگے۔اسی کے ٹھیک چار سال بعد احمد علیہ السلام نے ایک اور پیشگوئی بتاریخ 2 جنوری 1908ء شائع فرمائی جو حسب ذیل تھی: وَهُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيُغْلَبُونَ ترجمہ : اور وہ غلبہ پانے کے بعد جلد ہی مغلوب ہو جائیں گے۔یہ پیشگوئی نہایت صفائی کے ساتھ لفظ بلفظ پوری ہو گئی ہے۔اس کا پہلا حصہ تو جنگ بلقان میں پورا ہوا جبکہ ترکوں کو تھر میں میں ٹھیک ٹھیک الفاظ پیشگوئی کے مطابق بلغاریوں کے ہاتھ سے شکست فاش پہنچی۔تھریس کی سر زمین ترکی دارالخلافہ کے قریب ہی واقع ہے اور یہی پیشگوئی میں مذکور تھا کہ وہ (ترک) ادنی الارض ” میں مغلوب ہو جائیں گے۔اب پہلی پیشگوئی کا دوسرا حصہ پورا ہونا ہنوز باقی تھا یعنی یہ کہ “لیکن اپنی شکست کے بعد پھر جلدی ہی انہیں غلبہ بھی حاصل ہو جائے گا۔” وہ اس طرح پورا ہو گیا کہ جولائی 1913ء میں ترک اڈریا نوپل اور بعض دیگر مقامات پر از سر نو قابض ہو گئے۔دوسری پیشگوئی: دسمبر 1915ء میں دول متحدہ کی افواج گیلی پولی سے واپس ہوئیں پھر آخر اپریل کوت کی قلعہ نشین سپاہ نے ترکوں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔یہ وہ واقعات ہیں جن کی شکل میں دوسری پیشگوئی کا حصہ اول پورا ہوا۔جو ترکوں کی فتح پر مشتمل تھا۔اس دوسرے حصہ میں جن واقعات کی قبل از ظہور خبر دی گئی تھی وہ کس طرح وقوع میں آئے اور پیشگوئی کی سچائی کا ثبوت ہوئے۔اول تو مارچ 1917 میں تسخیر بغداد نے پیشگوئی کے اس حصہ کو نہایت وضاحت سے پورا کیا۔پھر دسمبر 1917ء میں بیت المقدس کی تسخیر نے۔گویا جیسا ترکوں کو دو نعمتیں اور کامیابیاں حاصل ہوئی تھیں اسی طرح ضروری تھا کہ ان کو شکستیں بھی دو نصیب ہوں تا کہ یشگوئی بالکل صفائی سے پوری ہو۔(2)