براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 186 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 186

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 186 مولوی صفدر حسین صاحب کے حالات میں حضرت مرزا صاحب کی ایک کتاب پر حیدر آباد دکن کے افسر امور مذہبی کی کتاب کا بھی ذکر ہے تو یہ ایک اچھا موقع تھا کہ مولوی عبدالحق صاحب کے اعتراض کو اٹھایا جاتا اور مولوی چراغ علی کے نام خطوط کو بطور ثبوت پیش کیا جاتا لیکن کوئی صاحب ثبوت کے ساتھ یہ اعتراض پیش نہ کر سکے۔اول تو یہ بات سرے سے موجود ہی نہ تھی اور اگر کوئی شائبہ بھی گزر تا تو یہ صاحبان اس موقعہ کو خالی نہ جانے دیتے۔لیکن مولوی عبد الحق صاحب نے اسے بعد میں خواہ مخواہ تھوپنے کی ناکام کوشش کی ہے۔لیکن مولوی چراغ علی یا کسی دیگر شخص نے اس قسم کے الزامات آپ کے بارے میں نہیں لگائے تھے۔اور نہ ہی مولوی چراغ علی نے کسی سے کسی قسم کی براہین احمدیہ کی تصنیف میں مدد کا ذکر کیا جبکہ مولوی چراغ علی اس کتاب کی حصہ اول تا چہارم اشاعت 1880ء- 1884ء کے بعد 1895 ء تک پندرہ سال تک زندہ رہے۔اور اُن (مولوی چراغ علی ) کے پاس حضرت مرزا صاحب کا وہ خط بھی موجود تھا جس میں آپ نے مولوی چراغ علی کو لکھا تھا کہ “سو میرا ارادہ ہے کہ اس تحقیقات اور آپ کے مضمون کو بطور حاشیہ کتاب کے اندر درج کر دوں گا۔واضح رہے کہ براہین احمدیہ ہر چہار حصص کے گیارہ حاشیے ہیں۔مولوی چراغ علی کو کونسی مشکل در پیش تھی کہ موصوف نے حضرت مرزا صاحب کے ان گیارہ حاشیوں میں سے اپنے بھجوائے گئے مضمون کی نشاند ہی نہ کی ! جبکہ ایک ایسا موقعہ پیدا بھی ہو ا جب حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے والے حیدر آباد دکن کی ہائی کورٹ کے ایک وکیل مولوی سید محمد رضوی صاحب نے جو نظام حیدر آباد د کی پھوپھی صاحبہ کی جائیداد کے منصرم تھے۔۔حضور نظام کی پھوپھی زاد ہمشیرہ نے اپنی والدہ کی تحریک پر سید رضوی صاحب سے نکاح کر لیا۔جب حضور نظام کو اس کا علم ہوا۔تو انہوں نے اس کو سخت نا پسند کیا اور نواب سید رضوی صاحب کو حیدر آباد سے نکل جانے کا حکم دیا۔چنانچہ سید رضوی صاحب بمبئی چلے آئے۔۔۔اور پریوی کو نسل (لندن) میں مقدمہ دائر کر کے رضوی صاحب کی بیوی کو اس کی والدہ کی جائیداد اور ملکیت کاورثہ دلانے کا دعویٰ کیا گیا۔۔۔20 اس موقعہ پر مولوی چراغ علی / چراغ علی کی اولاد / حضور نظام کے دیگر کارندے حضرت مرزا صاحب کے مذکورہ بالا خط کو سامنے لا کر اور اُن مقامات کی نشان دہی کر کے اس موقعہ سے فائدہ اٹھا سکتے تھے جو اگرچہ از روئے شرع کوئی ایسی بات نہ تھی لیکن حضور نظام کی ناپسندیدگی کی وجہ سے حضور نظام کی حمایت کا ایک موقعہ تھا۔لیکن کوئی بھی سامنے نہ آسکا اس کی وجہ ثبوت کی عدم دستیابی ہی ہو سکتی ہے وگرنہ حضور نظام کی خوشنودی کے لئے ان لوگوں کے لئے ایک بہت عمدہ موقعہ میسر تھا۔اور بعد میں آنے والوں نے لکھی پر مکھی مارتے ہوئے بلا سوچے سمجھے اُس غلط اور بے بنیاد بات کو دو ہر ادیا جو اُن کی بھی دیانت وصیانت پر ایک داغ ہے۔دراصل بات صرف مالی معاونت کی ہے جس کا ذکر اس مضمون میں پہلے بھی کیا جا چکا ہے۔مولوی چراغ علی کے علاوہ بھی بہت سے مالی معاونین تھے۔تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم السطور کا مضمون “ تذکرہ براہین احمدیہ کے مالی معاونین کا ” مطبوعہ ماہ نامہ “ انصار اللہ ”ربوہ، فروری 1998ء۔ان ہی مالی معاونین کی بابت حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں فرمایا کہ : “ جب تک صفحہ روز گار میں نقش افادہ اور افاضہ اس کتاب کا باقی رہے گا ہر یک مستفیض کہ جس کا اس کتاب سے وقت خوش ہو مجھ کو اور میرے معاونین کو دعائے خیر سے یاد کرے۔" محولہ بالا مضمون براہین کے مالی معاونین کے سلسلے میں راقم السطور کا ایک اور خصوصی مضمون ملاحظہ ہو “ براہین احمدیہ اور نواب صدیق حسن خان ” مطبوعہ ہفت روزہ “سیر روحانی ”جولائی اگست 2000ء اور ماہ نامہ “خالد ”ربوہ ستمبر 2000ء۔