براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 184
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام صاحب نے ان کے مضامین و تحقیقات کو بھی شامل کتاب کیا۔10 184 اگر چہ یہ دعوی بلا دلیل ہے مگر مولوی ابو الحسن ندوی صاحب کی اس تحریر کو اگر درست سمجھا جائے کہ حضرت مرزا صاحب نے مولوی چراغ علی کے مضامین و تحقیقات کو بھی شامل کیا تو ابو الحسن صاحب ندوی کے حوالے سے لکھی گئی پہلی تحریر کا بطلان ہو جاتا ہے۔ندوی صاحب تو جناب مرزا صاحب کی تحریر کی شان کو تو گرانا چاہتے ہیں مگر مولوی چراغ علی صاحب کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں اس طرح تو مولوی ندوی صاحب اپنی باتوں میں تناقض کا شکار ہو جاتے ہیں۔چلئے کہیں تو کوئی تقابلی مقابلہ ہی درج کر دیا ہو تا کہ لو صاحب ! یہ وہ مقام ہے جس سے مدد لینا ثابت ہے جو مولوی چراغ علی کا اسلوب ہے اور ان کی فلاں کتاب میں درج ہے۔مگر ایسا آج تک کسی کو ثابت کرنے کی توفیق ہی نہیں ملی مگر مولوی ابو الحسن ندوی صاحب نے اس کا دائرہ صرف مولوی چراغ علی تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ بہت سے اہل علم حضرات و مصنفین کو بھی شریک کر دیا مگر کہیں بھی کوئی ثبوت نہیں دیا۔یہ فقط الزام تراشی ہے جو بلادلیل ہے ! 7-5 - براہین احمدیہ میں مندرجہ وحی و الہام اور " تاریخ ادب اردو ” مصنفہ ڈاکٹر جمیل جالبی “ یہ دلچسپ بات ہے کہ مہدوی عقیدے کے پیروکاروں نے کم و بیش سارے بر عظیم میں خواہ وہ راجستھان میں دائرہ کے مہدوی ” ہوں یا گجرات، دکن، کرناٹک اور مدر اس کے مہدوی ہوں۔اردو زبان ہی کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا ہے۔یہی عمل بیسویں صدی کے نئے مذہبی فرقے احمدی (قادیانی) کے ہاں بھی ملتا ہے۔جس کے بانی پر وحی اردو زبان میں نازل ہوتی تھی 11 جمیل جالبی صاحب کی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے بارے میں یہ بات درست تو ہے مگر ادھوری آپ کو وحی و الہام صرف اردو میں ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ فارسی، عربی اور انگریزی میں بھی ہوتے تھے۔یہاں تک کہ چند ایک الہامات ایسے بھی آپ کی کتب میں مرقوم ہیں جو ان زبانوں کے الفاظ ہی نہیں بلکہ خود مرزا صاحب نے لکھ دیا کہ اس الہام کی سمجھ نہیں لگی۔مثلاً اردو الہام “بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے 12 فارسی الهام بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد انگریزی الہام آئی شیل گویو اے لارج پارٹی آف اسلام 14 اس کے علاوہ عبرانی الہام بھی ہیں مثلاً “ ایلی ایلی لما سبقتانی 15 اس الہامی حصہ کے اندراج کا صرف یہ مقصد ہے جو کہ جمیل جالبی صاحب کے تاریخ اردو کے حوالہ سے درج کیا گیا ہے کہ جناب مرزا صاحب نے یہ کتاب فیضانِ الہی کے ماتحت لکھی بلکہ جہاں آپ کو فیضانِ الہی کی فوری سمجھ نہ لگ سکی اسکے بارے میں لکھ دیا کہ اس کے معنے سمجھ نہیں آئے مثلاً اپنے موعود بیٹے کی پیدائش کے بارے میں پیشگوئی کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔۔۔۔“ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم ہو گا اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گاوہ تین کو چار کرنے والا ہو گا اس کے بعد لکھا کہ اس کے معنے سمجھ نہیں آئے۔یہ ہینڈ رائٹنگ سائنس کی روشنی میں فطرتی طور پر اصل یعنی Genuine ہونے کی زبر دست دلیل ہے اور بناوٹ کے اصول کے خلاف ہے اس سے قدرتی طور پر نتیجہ نکلتا ہے کہ اس پیشگوئی کے الفاظ الہامی طور پر جس حالت میں خدائے تعالیٰ نے بتائے عین اُسی حالت میں تحریر ہوئے اور صداقت اور سچائی کا یہ ایک ثبوت ہے۔16 7-6- براہین احمدیہ : حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب بھیروی کی تصدیق براہین احمدیہ پیرا 1-5 میں مذکور کتابوں کے جواب میں حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب نے تصدیق براہین احمدیہ جلد اول اور دوم لکھیں۔مصنف مذکور کے بارے میں اوپر ذکر آچکا ہے کہ کچھ لوگوں نے آپ کے بارے میں یہاں تک لکھ دیا کہ آپ نے براہین احمدیہ کی تصنیف میں مدد دی تھی۔جو اور جھوٹ کی طرح ایک خود تراشیدہ افسانہ ہے وگرنہ حقیقت سے اس کا دور کا تعلق بھی نہیں