براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 168
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام ظاہر ہے کہ جس نے اس قدر کلام کو طول دیا۔اور پھر ما حصل اس کا خاک بھی نہیں۔نہ توحید کا مدعی ہو کر توحید کو بیان کیا ہے۔نہ مخلوق پرستی کا مدعی ہو کر مخلوق پرستی کو بہ پایہ ثبوت پہنچایا ہے۔بلکہ سراسیمہ اور مخبط الحواس آدمی کی طرح ایسی تقریر بے بنیاد اور متناقض کی ہے کہ جس سے ہندو مذہب میں عجب طرح کی گڑ بڑ پڑ گئی ہے۔اور کوئی کسی دیو تا کا پر جاری اور کوئی کسی دیوتا کا بیجن گارہا ہے۔کیا ایسی تقریر سراپا فضول و مہمل اس لائق ہو سکتی ہے کہ کوئی دانا اس کو بلیغ و فصیح کہے۔شاید بعض ہند و صاحب جنہوں نے فقط وید کا نام سن رکھا ہے اور کبھی اس مقدس کتاب کا درشن نہیں کیا۔وہ دل میں یہ وسوسہ کریں کہ یہ شرتیاں جور گوید میں سے لکھی گئی ہیں وہ صحیح طور پر نہیں لکھی گئیں یا شاید ان سے بہتر وید مذکور میں اور شرتیاں ہوں گی۔جن میں وید نے وحدانیت الہی کے بیان کرنے میں داد فصاحت دی ہوگی یا مخلوق پرستی کو فصیح اور مدلل تقریر میں جو لازمہ فصاحت و بلاغت ہے عطا کیا ہو گا سو ایسے وسواسی آدمیوں کے جواب میں عرض کیا جاتا ہے کہ ہم نے یہ تمام شرتیاں رگوید سنتھا استک اول سکت سے ۱۱۵ سکت تک بطور نمونہ منتخب کر کے لکھی ہیں۔۔۔۔ہم نے بڑی غور اور تدبر سے وید پر نظر کر کے اس کو طریقہ شائستہ بیانی سے بالکل دور اور مہجور پایا ہے۔قرآن شریف کی چند آیات پر نظر ڈالیں کہ کس لطافت و ایجاز سے مسائل کثیر ہ وحدانیت کو قل ودل عبارت میں بیان کرتا ہے اور کس جہد و کوشش سے مسئلہ توحید کو دل میں بٹھاتا ہے اور کیسی فصیح اور مدل تقریر سے توحید الہی کو قلوب صافیہ میں منقش کرتا ہے۔اگر اس کی مانند وید مذکور میں شرتیاں موجود ہوں تو پیش کرنی چاہئیں ورنہ بیہودہ بک بک کرنا اور لاجواب رہ کر پھر خبث اور شر سے باز نہ آنا ان لوگوں کا کام ہے جن لوگوں کو خدا اور ایمانداری سے کچھ بھی غرض نہیں اور نہ حیا اور شرم سے کچھ سروکار ہے۔اب یہاں ہم بطور نمونہ بمقابلہ وید کی شرتیوں کے کسی قدر آیات قرآن شریف جو وحدانیت الہی کو بیان کرتے ہیں لکھتے ہیں تاہر ایک کو معلوم ہو جائے کہ وید اور قرآن شریف میں سے کس کی عبارت میں لطافت اور ایجاز اور زور بیان پایا جاتا ہے اور کس کی عبارت طرح طرح کے شکوک اور شبہات میں ڈالتی ہے اور فضول اور طول طویل ہے۔168 (اس کے بعد حضرت مرزا صاحب نے مختلف قرآنی سورتوں کی آیات مبارکہ درج کیں ہیں جو چار صفحات پر ممتد ہیں۔سورتوں کے اندراج کے بعد حضرت مرزا صاحب جو استدلال درج فرماتے ہیں اُس کا ایک حصہ درج ذیل ہے ) اللہ جو جامع صفات کاملہ اور مستحق عبادت ہے اس کا وجود بدیہی الثبوت ہے کیونکہ وہ جی بالذات اور قائم بالذات ہے بجز اس کے کوئی چیز حتی بالذات اور قائم بالذات نہیں یعنی اس کے بغیر کسی چیز میں یہ صفت پائی نہیں جاتی کہ بغیر کسی علت موجدہ کے آپ ہی موجود اور قائم رہ سکے یا کہ اس عالم کی جو کمال حکمت اور ترتیب محکم اور موزون سے بنایا گیا ہے علتِ موجبہ ہو سکے اور یہ امر اس صانع عالم جامع صفات کا ملہ کی ہستی کو ثابت کرنے والا ہے۔تفصیل اس استدلال لطیف کی یہ ہے کہ جو چیزیں نہ ضروری الوجود ہیں نہ ضروری القیام بلکہ ان کا کبھی نہ کبھی بگڑ جانا ان کے باقی رہنے سے زیادہ تر قرین قیاس ہے ان پر کبھی زوال نہ آنا اور احسن طور پر بہ ترتیب محکم اور ترکیب ابلغ ان کا وجود اور قیام پا یا جانا اور کروڑہا