براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 167 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 167

167 براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام چیزوں سے گوئیں اور گھوڑے اور بہت سا مال بھی مانگا۔لیکن اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ وید نے اپنی قوت بیانی اور کمال بلاغت سے توحید کے بیان کرنے میں زور لگایا ہے اور مشرکین کے اوہام اور وساوس کو دلائل واضحہ سے مٹایا ہے اور جو جو براہین اقامت توحید اور ازالہ شرک کے لئے ضروری ہیں۔وہ سب بیان کئے ہیں اور وحدانیت انہی کو ثابت کر کے دکھلایا ہے۔اور آگ وغیرہ کی پرستش سے منع کیا ہے تو یہ دعویٰ کسی طرح سر سبز نہیں ہو سکتا۔کون اس بات کو نہیں جانتا کہ وید کے مضمون اسی کی طرف جھکے ہوئے ہیں کہ تم آگ کی پرستش کرو۔اندر کے بھیجن گاؤ۔سورج کے آگے ہاتھ جوڑو۔اب ظاہر ہے کہ جس حالت میں بقول تمہارے وید کا یہ منشاء تھا کہ توحید کو بیان کرے اور سورج چاند وغیرہ کی پرستش سے روکے اور مشرکوں کو توحید کے درجہ تک پہنچاوے اور بگڑے ہوئے لوگوں کو اصلاح پر لاوے اور مخلوق پرستوں کو خدا پرست بناوے اور اہل شرک کے تمام وساوس مٹاوے۔لیکن بجائے اس کے کہ وہ اپنے اس منشاء کو پورا کرتا۔جابجا اس کے بیان سے مخلوق پرستی کی تعلیم جمتی گئی، جس تعلیم نے کروڑوں کی کشتی کو ڈبویا۔لاکھوں کو ورطہ شرک و کفر میں غرق کیا۔ایک جگہ بھی مونہہ کھول کر وید نے بیان نہ کیا کہ مخلوق پرستی سے باز آجاؤ۔آگ وغیرہ کی پوجامت کرو۔بجز خدا کے اور کسی چیز سے مرادیں مت مانگو۔خدا کو بے مثل و مانند سمجھو۔اس صورت میں ہر یک عاقل آپ ہی انصاف کرے کہ کیا فصیح کلام کی یہی نشانیاں ہوا کرتی ہیں کہ مافی الضمیر کچھ ہے اور مونہہ سے کچھ اور ہی نکلتا جاتا ہے۔اس قدر لغو بیانی تو مجانین اور مسلوب الحواسوں کے کلام میں بھی نہیں ہوتی۔وہ بھی اس قدر قوت بیانی رکھتے ہیں کہ اپنا دلی منشاء ظاہر کر دیتے ہیں۔جب پانی کی خواہش ہو آگ نہیں مانگتے اور اگر روٹی کی طلب ہو تو پتھر نہیں طلب کرتے۔مگر میں حیران ہوں کہ وید کی بلاغت کس قسم کی بلاغت ہے جس کا منشاء تو توحید تھا مگر بر خلاف اس کے صد ہادیو تاؤں کا جھگڑ اشروع کر دیا جو کلام اپنا منشاء ظاہر کرنے سے بھی عاجز ہے خدا نہ کرے کہ وہ فصیح و بلیغ ہو۔۔۔خالص ویدوں میں سے جن کو آر یہ لوگ اپنے پر میشر کا کلام اور ست و دیانوں کا پستک سمجھ رہے ہیں۔کسی قدر شرتیاں بطور نمونہ بیان کرنا قرین مصلحت ہے۔۔۔(حضرت مرزا صاحب رگوید کی سنتھا استک اول سکت سے 115 سکت تک منتخب شرتیوں کو درج کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں: اب ناظرین اس کتاب کے خود خیال فرما دیں کہ اس قدر شرتیوں سے جن کا ایک ذخیرہ کلاں یہاں لکھ کر کئی صفحے ہم نے سیاہ کئے ہیں کیا کچھ خدا کا بھی پتہ مل سکتا ہے۔اور حضرات آریا سماج والے انصافا ہم کو بتلاویں کہ رگوید نے ان شرتیوں میں اپنا منشا ظاہر کرنے میں کون سی بلاغت دکھلائی ہے۔اور آپ ہی بولیں کہ کیا اس کی تقریر فصیح تقریروں کی طرح پر زور اور مدلل ہے یا پوچ اور لچر ہے۔منصفین پر پوشیدہ نہیں کہ ان شرتیوں میں بجائے اس کے کہ حق الا مر کو اپنی خوش بیانی کے ذریعہ سے ظاہر کیا جاتا اور راستی کے پھیلانے کے لئے کوشش کی جاتی۔خود مضمون شرتیوں کا ایسا بے سروپا اور مہمل ہے جس سے سامع اس کا ایک ڈبدہا میں پڑ جاتا ہے۔کبھی ایک چیز کو خالق ٹھہراتا ہے اور اس سے مرادیں مانگتا ہے۔کبھی اُسی کو مخلوق بناتا ہے اور دوسرے کی محتاج قرار دیتا ہے۔کبھی کسی کے لئے خدا کی صفتیں قائم کرتا ہے۔اور پھر اسی کی طرف فانی چیزوں کی صفتیں منسوب کرتا ہے۔اور