براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 160
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام اس کے پات ایک دوسرے سے الگ ہو کر گر پڑتے ہیں نظیر بنا سکے تو پھر ایسے حقیقی پھول کا مقابلہ کیونکر ہو سکے :۔جس کے لئے مالک ازلی نے بہار جاوداں رکھی ہے اور۔جس کو ہمیشہ باد خزاں کے صدمات سے محفوظ رکھا ہے اور۔جس کی طراوت اور ملائمت اور حسن اور نزاکت میں کبھی فرق نہیں آتا اور کبھی افسردگی اور پژمردگی اس کی ذات بابرکات میں راہ نہیں پاتی • بلکہ جس قدر پر انا ہوتا جاتا ہے۔اُسی قدر اس کی تازگی اور طراوت زیادہ سے زیادہ کی۔اس کے عجائبات زیادہ سے زیادہ منکشف ہوتے جاتے ہیں اور • اس کے حقائق دقائق لوگوں پر بکثرت ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔دہ کھلتی جاتی ہے اور۔تو پھر ایسے حقیقی پھول کے اعلی درجہ کے فضائل اور مراتب سے انکار کرنا پرلے درجہ کی کور باطنی ہے یا نہیں 95 160 حضرت مرزا صاحب غلام احمد قادیانی نے جس شان سے قرآن شریف کا کلام الہی ہو نا ثابت فرمایا ہے وہ درج بالا عبارت سے ظاہر ہے اور اس کی مثال آپ نے سورۃ فاتحہ کی چند آیات کا حوالہ دے کر ایک تمثیل کے ذریعے واضح فرمائی ہے۔اسی طرح حضرت مرزا صاحب قرآن شریف کے ہر اک لفظ کو سچا قرار دیتے ہیں۔جیسے کہ فرمایا پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو اک لفظ 96 ہر مسیحا نکلا درج بالا اندراجات سے فرقان مجید کے الہامی / کلام الہی ہونے کا ثبوت حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی تحریرات سے ثابت کر دیا گیا ہے جن سے مقابلے میں مولوی چراغ علی صاحب کی جملہ تصانیف خالی پڑی ہیں بلکہ موصوف تو مشرف بہ مکالمت الہیہ ہونے کے مخالف و منکر ہیں۔یہاں بے جانہ ہو گا کہ مولوی چراغ علی صاحب جس امر کو تسلیم کرتے ہیں وہ: “موسیٰ کی حالت کوہ طور پر مساولت رویت الہی ہے جو کہ “اگر اسکا تکرار اور استمرار ثابت ہو سکے تو ممکن ہے ” 8لا کی شرائط کے ساتھ ہے۔97,9 جب ہم حضرت موسیٰ ، حضرت عیسی اور آنحضرت صلی اللہ کریم کی کیفیات وحی پر نظر ڈالتے ہیں تو جو تصویر سامنے آتی وہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے قلم سے ملاحظہ ہو: “ بنی اسرائیل میں سے سب سے بڑے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوئے ہیں اُن کے متعلق بائبل میں لکھا ہے کہ وہ اپنے خسر شیر کے گلہ کی نگہبانی کر رہے تھے کہ انہوں نے خواب پہاڑ پر ایک درخت آگ میں روشن دیکھا۔