براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 152 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 152

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام دو 152 استمرار ( جاری رہنا) ثابت ہو سکے۔یعنی اس کیفیت و واردات کا مولوی چراغ علی صاحب کو یقین ہی نہیں۔ابھی انہیں گمان ہے کہ اگر ثابت ہو سکے اور اس پر بس نہیں بلکہ لکھتے ہیں کہ “اگر ثابت ہو سکے تو ممکن ہے از قبیل اثر الہی ہو ، یعنی مولوی چراغ علی صاحب پر وحی کی کیفیات کا بار بار ہونا اور جاری رہنا اول تو ثابت ہی نہیں دوم اگر ثابت ہو تو پھر بھی ممکن ” کے “اگر مگر ” میں رکھ کر امکان قرار دیتے ہیں اور اُس پر دلیل لاتے ہیں کہ یہ دھو کہ نہیں۔خود مولوی چراغ علی صاحب دھوکے میں مبتلا ہیں اور کسی کا یعنی ارونگ کا دھو کہ کیونکر دور کر سکیں گے؟ پھر اسی ڈھل مل یقین اور بے یقینی کی کیفیت میں چوتھے امر کے بارے میں مولوی چراغ علی صاحب لکھتے ہیں: کیفیت توجد و بر انگیختگی اور اس کے جوش اور ہیجان میں اپنے مشرف بمکالمت الہی تصور کر لینا خیالات خام اور تصورات نافرجام از قبیل اضغاث احلام ہیں حالانکہ جناب نبوی کی تیزی عقل اور حدث شعور اور ذہن ثاقب اور فکر صائب مخالفین میں بھی مسلم ہے۔تو کیسے ہو سکتا ہے اس کا اثر با اینہمہ موانع و معارضات مرتے دم تک رہے۔اور کیا وجہ کہ اگر ایک مر تبہ کہ ایک وہم یا دھو کہ ہو جائے تو باوجو د سلامت عقل اور صحت ادراک ہم اسی پر مستمر اور مصر رہیں۔نمبر دو امر کہ Ifs اور Buts کے بعد یہاں بھی مولوی چراغ علی صاحب کی کیفیات وحی کا بیان مستشرق کی اتباع میں توجد strong emotion اور برانگیختگی instigation کے تصورات پر ہی مرکوز ہے۔88", بلکہ مشرف بمکالمت الہی ہونے کو مولوی چراغ علی صاحب کیا لکھتے ہیں۔ایک بار پھر ملاحظہ ہو: خیالات خام تصورات نافرجام a foolish unmeaning speech از قبیل اضغاث و احلام confused dreams which can not be interpreted اور یہاں پر تو نمبر دو کے دھوکے کے امکان کا بھی انکار کرتے ہیں کیونکہ آنحضرت صلی کم کی تیزی عقل، حدت شعور اور فکر صائب مخالفین میں بھی مسلم ہے اور ایک مرتبہ کے وہم یاد ھو کہ باوجو د سلامت عقل اور صحت ادراک پر ہم مستمر ( جاری رہیں) اور مصر (اصرار کریں) رہیں۔یعنی مولوی چراغ علی صاحب کے نزدیک اس استمرار و اصرار جسے وہ وہم یا دھو کہ قرار دیتے ہیں اُس سے انکار کر دینا چاہیے کیونکہ آنحضرت صلی الم کی تیزی عقل ، حدث شعور اور فکر صائب جو مخالفین میں بھی مسلم ہے اُس کا یہ تقاضا ہے !؟ گویا مولوی چراغ علی صاحب نے دوسرے لفظوں میں مشرف بمکالمت الہی ہونے سے صاف صاف لفظوں میں انکار کر دیا باوجو د حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نمبر دو میں مثال بھی دی لیکن اُسے بھی پس پشت ڈال دیا ! اور اس پیرا کے آخر پر لکھ دیا کہ: کسی صاحب عقل کو ایک منٹ کے لیے بھی شبہ نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت صلی لی ہم اپنے آپ کو رسول الہی بیان کرنا اور مشاہدہ ملائکہ اور تنزیل وحی کا احساس دھوکا اور وہم تھا( حاشیہ میں لکھ دیا انہیں تو سب کارو بار عالم یک لخت ( یہ الفاظ پڑھے نہیں گئے۔ناقل ) ہم لوگ سوفسطائی بن جائیں گے۔82