براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 147
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام اور قرآن شریف جس کی تاثیریں ہمارے ائمہ اور اکا بر قدیم سے دیکھتے آئے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں ، نازل نہ ہوا ہو تا۔تو ہمارے لئے یہ امر بڑا ہی مشکل ہوتا۔کہ جو ہم فقط بائبل کے دیکھنے سے یقینی طور پر شناخت کر سکتے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح اور دوسرے گزشتہ نبی فی الحقیقت اسی پاک اور مقدس جماعت میں سے ہیں جن کو خدا نے اپنے لطف خاص سے اپنی رسالت کے لئے چن لیا ہے۔یہ ہم کو فرقان مجید کا احسان ماننا چاہئے جس نے اپنی روشنی ہر زمانہ میں آپ دکھلائی اور پھر اس کامل روشنی سے گزشتہ نبیوں کی صداقتیں بھی ہم پر ظاہر کر دیں۔73 امر زیر بحث کے لیے خط کشیدہ الفاظ کو “روحانی تا شیروں ” کے ثبوت کے لیے بغور دیکھا جانا چاہئے۔پادری عماد الدین صاحب لکھتے ہیں: قرآن شریف انجیلی تعلیم پر کیا فوقیت رکھتا ہے؟ “ ہم محمد صاحب کی تعلیم کو عمدہ نہیں پاتے۔"74 147 لیکن مولوی چراغ علی صاحب کی تعلیقات ” اس کے جواب سے خالی ہے ! لیکن چونکہ ان امور کے بارے میں حضرت مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کے نام میں ہی ان امور کو سمو دیا ہے اور یہ آپ کا ہی کام تھا کہ مامور و مؤید من اللہ ہو کر ان کو ثابت کرتے۔لہذا براہین احمدیہ سے ہی قرآن شریف کی انجیلی تعلیمات پر کیا فوقیت ہے ، یہاں نقل کی جاتی ہے جو دراصل گذشتہ موضوع تاثیراتِ روحانی ہی کا تسلسل ہے۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب رقم فرماتے ہیں:۔انجیل وغیرہ گزشتہ کتا بیں بعلت فساد اور تحریف کے اپنی ذات اور صفات میں کسی معجزہ اور تاثیر روحانی کا مظہر نہ ہو سکیں اور صرف بطور کتھا اور قصہ کے پرانے معجزات پر مدار رہالیکن کیونکر ممکن تھا کہ ایسے لوگ جنہوں نے حضرت موسیٰ کے عصا کو بچشم خود سانپ بنتے نہیں دیکھا اور نہ حضرت عیسی کے ہاتھ سے کوئی مردہ قبر سے اٹھتا مشاہدہ کیا وہ صرف بے اصل قصوں کے سننے سے یقین کامل تک پہنچ جاتے۔ناچار یہودی و عیسائی رُو بدنیا ہو گئے اور عالم آخرت پر ان کو کچھ اعتماد نہ رہا۔کیونکہ اپنی آنکھ سے تو انہوں نے کچھ بھی نہ دیکھا اور کسی قسم کی برکت مشاہدہ نہ کی۔غرض جس کا ایمان عیسائیوں اور یہودیوں اور ہندوؤں کی طرح صرف قصوں اور کہانیوں کے سہارے پر موجود ہو۔اسکے ایمان کا کچھ بھی ٹھکانا نہیں اور آخر اس کیلئے وہی ضلالت در پیش ہے جس ضلالت میں یہ بد نصیب قوم عیسائیوں وغیرہ کی مبتلا ہو گئی جن کی کل جائداد فقط وہی دیرینہ کہانیاں اور ہنر اروں برسوں کے خستہ شکستہ قصے ہیں۔لیکن ایسے شخصوں کے ایمان کا کچھ بھی قیام نہیں اور اُن کو کسی طرح پتہ نہیں مل سکتا کہ وہ پورانا خدا جو پہلے انکے بزرگوں کے ساتھ تھا اب کہاں اور کدھر ہے اور موجود ہے یا نہیں۔75 اسی حاشیے میں ایک اور مقام پر حضرت مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں: وہ لوگ جو اہل کتاب کہلاتے ہیں ان کے ہاتھ میں بھی بجز باتوں ہی باتوں کے اور خاک بھی نہیں۔حضرت موسیٰ کے پیرو یہ کہتے ہیں کہ جب سے حضرت موسیٰ اس دنیا سے کوچ کر گئے تو ساتھ ہی ان کا عصا بھی کوچ کر گیا کہ جو سانپ بنا کر تا تھا اور جو لوگ حضرت عیسی کے اتباع کے مدعی ہیں۔ان کا یہ بیان ہے کہ جب حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھائے گئے تو ساتھ ہی ان کے وہ برکت بھی اٹھائی گئی جس سے حضرت ممدوح مردوں کو زندہ کیا کرتے