براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 139 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 139

براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام دیکھے ہوئے لفظ کے متعلق بولا جاتا ہے۔۔۔یورپین مصنفین کی طرف سے جو اختلاف پیش کیا جاتا ہے وہ در حقیقت اختلاف نہیں بلکہ محاورہ زبان کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔اگر یہ رویاء ہی تھی جو رسول کریم ملی ایم نے دیکھی تو بہر حال جیسا کہ ہمیں یقین اور وثوق ہے یہ رویاء اُس قسم کی نہیں تھی جس میں انسان پر کامل نیند طاری ہوتی ہے۔۔۔غار حراء میں آپ مئی ہم کو جو نظارہ دکھایا گیا وہ گہری نیند والا نہ تھا۔بلکہ کشفی نیند والا تھا۔آپ صلی الی یوم کے ان الفاظ کا کہ پھر میں جاگ اُٹھا صرف اتنا مفہوم ہے کہ پھر میری کشفی حالت جاتی رہی۔57 6-10۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیائی اور وحی و الہام کی تعریف 139 قطع نظر مولوی چراغ علی صاحب کے وحی والہام کے بارے میں “خواب ” اور “ قوائے انسانی کے قدرتی نتیجہ ” کے حضرت مرزا صاحب جس صورت کا ذکر فرماتے ہیں وہ براہین احمدیہ ہی کے حصہ سوم (مطبوعہ 1882) میں ملاحظہ ہو ( جبکہ مولوی چراغ علی کے قطعی خیالات مطبوعہ تحقیق الجہاد " 1885ء کے ہیں)۔حضرت مرزا صاحب کے یہ افاضات مذکورہ بالا علامات نبوت میں سے وحی و الہام کے بارے میں وحی و الہام، مکالمہ الہیہ اور ملائکتہ اللہ کے مشاہدہ سے تعلق رکھتے ہیں۔حضور فرماتے ہیں جس کا خواب ” “ قوائے انسانی یا قلب سے کچھ تعلق نہیں بلکہ خارج سے آواز آتی ہے : صورت۔۔الہام کی وہ ہے جس کا تعلق انسان کے قلب سے کچھ تعلق نہیں بلکہ ایک خارج سے آواز آتی ہے اور یہ آواز ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے ایک پردہ کے پیچھے سے کوئی آدمی بولتا ہے۔مگر یہ آواز نہایت لذیذ اور شگفتہ اور کسی قدر سرعت کے ساتھ ہوتی ہے اور دل کو اس سے ایک لذت پہنچتی ہے۔انسان کسی قدر استغراق میں ہو تا ہے کہ یکد فعہ یہ آواز آجاتی ہے اور آواز سن کر وہ حیران رہ جاتا ہے کہ کہاں سے یہ آواز آئی اور کس نے مجھ سے کلام کی۔اور حیرت زدہ کی طرح آگے پیچھے دیکھتا ہے پھر سمجھ جاتا ہے کہ کسی فرشتہ نے یہ آواز دی۔اور یہ آواز خارجی اکثر اس حالت میں بطور بشارت آتی ہے کہ جب انسان کسی معاملہ میں نہایت منتظر اور مغموم ہوتا ہے یا کسی بد خبری کے سننے سے کہ جو اصل میں محض دروغ تھی۔کوئی سخت اندیشہ اس کو دامنگیر ہو جاتا ہے۔۔ایک ہی دفعہ اسی وقت کہ جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔کوئی فرشتہ غیب سے ناگہانی طور پر آواز کرتا ہے۔خواہ سومر تبہ دعا اور سوال کرنے کا اتفاق ہو۔اُس کا جواب سو مر تبہ ہی حضرت فیاض مطلق کی طرف سے صادر ہو سکتا ہے۔جیسا کہ متواتر تجربہ خود اس خاکسار کا اس بات کا شاہد ہے۔الہام ایک واقعی اور یقینی صداقت ہے جس کا مقدس اور پاک چشمہ دین اسلام ہے۔اور خداجو قدیم سے صادقوں کا رفیق ہے دوسروں پر یہ نورانی دروازہ ہر گز نہیں کھولتا 58 اس عبارت سے یہ ثابت ہوا کہ وحی و الہام :۔جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔۔ایک خارج سے آواز آتی ہے جس کا انسان کے قلب سے کچھ تعلق نہیں۔یہ آواز نہایت لذیذ، شگفتہ، کسی قدر سرعت کے ساتھ اور دل کو لذت پہنچانے والی ہوتی ہے۔جیسے ایک پردہ کے پیچھے سے کوئی آدمی بولتا ہے ، پھر سمجھ جاتا ہے کہ کسی فرشتہ نے یہ آواز دی۔