براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 119
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام اولاً: دوم ثالثا: رابعاً: 119 سفر وسیاحت اور آمد ورفت میں ایسے افضل و اعلیٰ مضامین قرآنی اور حقائق ربانی کا اخذ اور حاصل کرناو ہی بحث ہے جس کا ابطال بصراحت عقل پہلے کیا گیا۔۔۔شام کے دو سفروں میں جن میں یہ عجلت واپس آنا پڑا اس لائق نہیں ہو سکتے کہ اہل مکہ میں ایسے علوم الہی اور تہذیب دین اور اصلاح مذہب کے لئے کافی ہوں۔شام کاسفر قطعا غیر صحیح ہے۔حضرت خدیجہ کا فارسی، عبرانی، یونانی اور لاطینی جاننا ثابت نہیں۔خامساً ورقہ بن نوفل کا کتب یہود، نصاری کو عربی میں ترجمہ کرنا اور اس کار سول خدا کو تعلیم دینا محض بے اصل ہے سادساً ورقہ قبل دعوت مر چکا تھا۔قرآنی مضامین جو فی البدیہہ حسب موقع و مناسب مقام ہوئے تھے اُن میں ورقہ کی شرکت کسی طرح ممکن نہیں۔قرآن کے مطالب متوافرہ و مضامین کثیرہ کی تعلیم اور تحصیل کے لیے نہایت غیر کافی تھی۔( نوٹ راقم الحروف: مولوی چراغ علی صاحب تو قرآنی تعلیمات کو " اٹکل پچو " قرار دے کر قرآن کے مطالب متوافرہ و مضامین کثیرہ کی تعلیم کے بارہ میں لکھنے کا حق ہی نہیں پہنچتا ) سابعاً: سر جیں راہب مسیحی سے قلیل عرصہ کی ملاقات ہے۔ثامناً: سلمان فارسی سے آنحضرت کی ملاقات بہت کم اور وہ بھی آخر میں رہی۔حکایات بہشت و دوزخ سلمان فارسی کے مسلمان ہونے سے پہلے کی سورتوں میں ہیں۔قرآن کے مضامین عالیہ و مطالب جلیلہ، فہم دلائل وجود باری تعالی و براہین توحید و بطلان شرکت بت پرستی و ثبوت بعث و نشر و معارف الہی اور صفات او تعالیٰ اور اس کے عالی مرتبہ کی فصاحت و غایت درجہ کی بلاغت خیال کیجئے۔نوٹ راقم الحروف: ان تمام امور پر مولوی چراغ علی صاحب نے قرآنی تعلیمات کو " اٹکل پچو " قرار دے کر پانی پھیر دیا ہے! موصوف قرآن کریم کی 200 آیات کو سول لاء کے متعلق محکم تعلیم تسلیم ہی نہیں کرتے۔ملاحظہ ہو اعظم الکلام متاسعا: صفحہ 17) دین مسیحی سے استفاضہ کرنا بھی بالکل باطل اور رکیک سند ہے۔کیونکہ اُس زمانہ کی مسیحیت عرب کی بُت پرستی اور دیگر ادیان باطلہ سے کم نہ تھی۔عاشراً: مضامین فرقانیہ کے اسلوب اور تنظیم اور فحوی و ترتیب سے صاف ظاہر ہے کہ اس میں اول سے آخر تک اس کے مقاصد اور مارب میں باہم توفیق اور منطوق و مفہوم میں باہم تطبیق سے ذکر جلائل و نعوت الہیہ و بیان فضائل و محامد ربانیه با هم متلائم اور براهین اثبات توحید و ابطال عبادت اوثان باہم متماثل اور ذکر وعد و عید و انذار و تبشیر باہم متشاکل اور حقائق و معارف ربانی اور مکارم اخلاق و نظام امور و مصالح عباد و احکام معاش با هم متماثل اور اس کے موضوع و منشاء عام ایسے با ہم متقارب ہیں۔(نوٹ راقم الحروف: ایک ایسے شخص کو جو قرآنی تعلیمات کو " اٹکل پچو " سمجھے اسے ان باتوں کے لکھنے کا حق ہی نہیں پہنچتا۔اس نے یہ امور کہیں سے محض برائے جواب نقل کئے ہوئے معلوم ہوتے ہیں)