براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 37
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 37 1884ء)مولوی چراغ علی، سرسید ، حکیم مولوی نور الدین حیات تھے۔انہوں نے یہ کریڈٹ جناب مرزا صاحب کو تن تنہا کیوں لینے دیا، اپنی شراکت کا ادعاء ہی کر دیا ہوتا؟ اور اب بھی وقت نہیں گیا دونوں تحریریں موجود ہیں موازنہ خود حقیقت کھول دینے کے لئے کافی ہے۔اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر وحید قریشی، سید عبد اللہ کی کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں: ہمارا ادب سرسید کی یکطرفه تصویر پیش کرتے کرتے اہم شخصیتوں کو نظر انداز کرنے لگا تھا جن میں اکبر کا نام بڑی اہمیت رکھتا ہے ) اس کے علاوہ ہمارے ادب کی تاریخوں میں یہ کوتاہی بھی پیدا ہو گئی کہ اس کے سر گرم نقیبوں نے ادب کی ہر نئی تحریک سرسید کا ضمیمہ بنانے کی کوشش کی پھر تحریک کو سر سید کے تھیلے سے بر آمد کرنے کا نتیجہ یہ تھا کہ اپنی تاریخ کے ہر دور میں ہم نے کچھ بندھے ٹکے فارمولے بنالئے اور ہماری تاریخیں انہیں فارمولوں کو کمی بیشی سے دہراتی چلی گئیں۔73 یہی کوشش حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اور ان کی کتاب براہین احمدیہ کے بارے میں بھی کی گئی ہے۔جس کا جائزہ زیر نظر کتاب میں مولوی عبد الحق صاحب کے مقدمہ اعظم الکلام۔۔۔۔کے حوالے سے کیا گیا ہے۔سر دست ہم سر سید کی امداد والے معاملے میں سر سید ہی کی ایک تحریر اور اس پر تبصرہ نقل کر کے مقدمہ زیر نظر پر بات کرتے ہیں۔سرسید نے ایک موقعہ پر لا پر لکھا “ ہم نے نامی یورپ کے عالموں ایڈیسن اور سٹیل کے مضامین کو بھی اپنی طرز اور اپنی زبان میں لکھا ہے۔جہاں کہ ہم نے اپنے نام کے ساتھ اے۔ڈی اور ایس ڈی کا اشارہ کیا ہے اور اپنی قوم کو دکھایا ہے کہ مضمون لکھنے کا کیا طرز ہے؟ اور ہماری زبان میں ان خیالات کو ادا کرنے کی کیا طاقت ہے۔۔۔۔” اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سید صاحب نے انگریزی زبان کے ان نامور مضمون نگاروں کے طرز کی تقلید کی کوشش کی چنانچہ کچھ مضامین ایسے بھی لکھے جن کو انگریزی کا ترجمہ یا چر بہ سمجھنا چاہئے۔74 جو شخص کسی دوسرے کے مضامین کاچر بہ اڑالے اسے کسی دوسرے کو مضامین کی مدد دینے کی اہلیت اور ضرورت ہی کیا ہے۔یہ محض ایک دعویٰ ہے جو بلا دلیل ہے۔محمد بیجی تنہا نے مولوی عبد الحق صاحب کے مقدمہ اعظم الکلام۔۔۔۔سے حضرت مرزا صاحب کے خطوط نقل کرنے کے بعد ایک عبارت اور نقل کی ہے جو مولوی عبد الحق صاحب کے مجموعی تبصرہ سے ملتی جلتی ہے مگر الفاظ میں قدرے فرق ہے اور ایک زائد بات بھی درج کی گئی ہے۔مولوی عبد الحق صاحب کی عبارت ہم نے اوپر مقدمہ اعظم الکلام۔۔۔۔کے صفحہ 25-26 کے حوالے سے لکھی ہے۔اب تنہا صاحب کی نقل کر دہ عبارت بھی ملاحظہ ہو۔۔۔۔“ خطوط مندرجہ بالا کے اقتباسات سے یہ امر بخوبی ثابت ہو تا ہے کہ مولوی صاحب نے مرزا صاحب کو براہین احمدیہ کی تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کو حمایت و حفاظت اسلام کا کس قدر خیال تھا یعنی خود تو وہ کام کرتے ہی تھے مگر دوسروں کو بھی اس میں مدد دینے سے دریغ نہ کرتے تھے۔نیز مولوی صاحب کسی بلند درجہ کے محقق تھے کہ مرزا غلام احمد صاحب جیسے زبر دست عالم بھی ان کی امداد کے متمنی تھے۔"75 حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے بارے میں زبر دست عالم کے الفاظ محمد یحییٰ تنہا کی کتاب میں موجود ہیں اگر چہ مولوی عبد الحق صاحب کے مقدمہ میں یہ الفاظ نہیں لکھے ہوئے ملتے۔یادر ہے کہ حضرت مرزا صاحب کا اپنی نسبت کسی قسم کے عالم ہونے کا دعویٰ نہیں ہے۔چنانچہ آپ اپنی کتاب بزبان عربی "نور الحق " حصہ دوم میں تحریر فرماتے ہیں: "واللہ انی لست العلماء ولا من اھل الفضل والدهاء و كلما اقول من انواع حسن البيان او من تفسیر القرآن فهو من الله الرحمن " یعنی خدا کی قسم نہ میں کوئی عالم ہوں اور نہ کسی فضیلت اور عظمندی کا مجھے دعویٰ ہے۔عمدہ کلام یا قرآن مجید کی تفسیر جو کچھ بھی میں کہتا ہوں وہ سب خدائے رحمن کی طرف سے ہو تا ہے۔(اسی کے عطا کر دہ علم کا نتیجہ ہے )"۔