براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 124 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 124

124 براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام دینی باہر نہیں۔بلکہ جن صداقتوں کو حکیموں نے باعث نقصان علم و عقل غلط طور پر بیان کیا ہے۔قرآن شریف ان کی تکمیل و اصلاح فرماتا ہے اور جن دقائق کا بیان کرنا کسی حکیم و فلاسفر کو میسر نہیں آیا۔اور کوئی ذہن ان کی طرف سبقت نہیں لے گیا۔اُن کو قرآن شریف بکمال صحت و راستی بیان اور ظاہر فرماتا ہے اور ان دقائق علم الہی کو کہ جو صد ہا دفتروں اور طول طویل کتابوں میں لکھے گئے تھے اور پھر بھی ناقص اور نا تمام تھے۔باستیفا تمام لکھتا ہے اور آئندہ کسی عاقل کیلئے کسی نئے دقیقہ کے پیدا کرنے کی جگہ نہیں چھوڑتا۔حالانکہ وہ اسقدر قلیل الحجم کتاب ہے کہ جو بہ تحریر میانہ چالیس ورق سے زیادہ نہیں۔یہ انسان کا کا کام نہیں اور کسی مخلوق کی حد قدرت میں داخل ا نہیں۔قرآن شریف باوجود اس ایجاز اور اس احاطہ حق اور حکمت کے۔۔۔عبارت میں اس قدر فصاحت اور موزونیت اور لطافت اور نرمی اور آب و تاب رکھتا ہے کہ اگر کسی سر گرم نکتہ چین اور سخت مخالف اسلام کو کہ جو عربی کی املاء انشاء میں کامل دستگاہ رکھتا ہو۔حاکم با اختیار کی طرف سے یہ پر تہدید محکم سنایا جائے کہ اگر تم مثلاً ہیں برس کے عرصے میں کہ گویا ایک عمر کی میعاد ہے۔اس طور پر قرآن کی نظیر پیش کر کے نہ دکھلاؤ کہ قرآن کے کسی مقام میں سے صرف دو چار سطر کا کوئی مضمون لے کر اسی کے برابر یا اس سے بہتر کوئی نئی عبارت بنالاؤ۔جس میں وہ سب مضمون معہ اپنے تمام دقائق حقائق کے آجائے اور عبارت بھی ایسی بلیغ اور فصیح ہو جیسی قرآن کی تو تم کو اس عجز کی وجہ سے سزائے موت دی جاوے گی تو پھر بھی باوجو د سخت عناد اور اندیشہ رسوائی اور خوف موت کی نظیر بنانے پر ہر گز قادر نہیں ہو سکتا اگر چہ دنیا کے صدہا زبان دانوں اور انشا پر دازوں کو اپنے مددگار بنالے۔یہ مثال متذکرہ بالا کوئی خیالی اور فرضی بات نہیں ہے بلکہ یہ واقعہ حقہ ہے جس کا قرآن شریف ہی کے وقت میں امتحان ہو چکا ہے اور جس کی سچائی ابتداء سے ہر یک طالب حق پر آج تک ثابت ہوتی چلی آئی ہے اور اب بھی اگر کوئی طالب حق اس معجزہ قرآنی کو بچشم خود دیکھنا چاہتا ہے تو اس بات کا بھی ہم ہی ذمہ اٹھاتے ہیں کہ یہ معجزہ بھی نہایت آسانی سے اس پر ثابت کر دیں گے۔۔۔صرف طالب حق پر یہ لازم ہے کہ اپنی حسب مرضی قرآن شریف کے کسی مقام میں سے کوئی مضمون لیکر کسی عربی دان کو کہ جو آج کل اس ملک میں لاکھوں نظر آتے ہیں اس فہمائش سے دیوے کہ وہ اس مضمون کو معہ جمیع لطائف اور نکات اسکے کے اپنی عبارت میں بنادے۔پس جب ایسا مضمون بن کر طیار ہو جائے تو وہ ہمارے پاس بھیج دینا چاہئے اور ہم اس عبارت کا کمالات قرآنی سے محروم اور بے نصیب ہونا ایسی واضح تقریر سے بیان کر دیں گے جس بیان کو ہر یک اردو خوان بخوبی سمجھ سکے گا۔۔۔۔۔۔دلائل عقلیہ بھی خدا کا اپنی ذات اور جمیع صفات اور افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری اور واجب ٹھہراتے ہیں۔اور اس کی الوہیت کے تحقق کو انہیں خواص کے تحقق سے مشروط قرار دیتے ہیں۔۔جس ذات کو علمی اور قدرتی طاقتوں میں سب سے زیادہ اور بے مثل و مانند تسلیم کرتے ہیں ان طاقتوں کے آثار کو بھی بے مثل و مانند مانا چاہئے کیونکہ۔کلام کی عظمت و شوکت متکلم کی علمی طاقتوں کے تابع ہے جو کوئی علمی طاقتوں میں زیادہ تر ہے اس کی تقریر کی عظمت و شوکت بھی زیادہ تر ہے۔۔۔انسان کی علمی طاقتیں خدا تعالیٰ کی علمی