براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 89 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 89

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام دیکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں کس قدر اب تک بارش کی طرح برس رہی ہیں لیکن اس زمانہ کے متعصب پادری اگر خود کشی کا ارادہ کریں تو کریں مگر یہ امید اُن پر بہت ہی کم ہے کہ وہ طالب صادق بن کر کمال ارادت اور صدق سے اس نشان کے جو یاں ہوں۔بہر حال دوسرے لوگوں پر یہ بات واضح رہے کہ جس حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات اب بھی آفتاب کی طرح روشن ہیں اور دوسرے کسی نبی کی برکات کا نشان نہیں ملتا۔تو اس صورت میں لازم ہے کہ اگر ایسے متعصب اور دنیا پرست پادری کسی بازار یا کسی شہر یا گاؤں میں کسی کو بر خلاف اس حق الا مر کے بہکاتے نظر آدیں تو یہی موقعہ اس کتاب کا ان کے سامنے کھول کر رکھ دیا جاوے۔کیونکہ یہ کتاب دس ہزار روپیہ کے اشتہار پر تالیف کی گئی ہے اور اس سے معارضہ کرنے والا دس ہزار روپیہ پاسکتا ہے۔پس شرم اور حیا سے نہایت بعید ہے کہ جو لوگ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منکر ہیں وہ پنڈت ہوں یا پادری آریہ ہوں یا برہموں وہ صرف زبان سے طریق فضول گوئی کا اختیار رکھیں اور جو دلائل قطعیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور رسالت پر ناطق ہو رہی ہیں ان کے جواب کا کچھ فکر نہ کریں یہ عاجز خواہ نخواہ ان کو دین اسلام کے قبول کرنے کے لئے مجبور نہیں کرتا لیکن اگر مقابلہ و معارضہ سے عاجز رہیں اور جو کچھ آسمانی نشان اور عقلی دلائل حقیت اسلام پر دلالت کر رہے ہیں اُن کی نظیر اپنے مذہب میں پیش نہ کر سکیں تو پھر یہی لازم ہے کہ جھوٹ کو چھوڑ کر سچے مذہب کو قبول کر لیں۔32 عصمت انبیاء 89 مولوی چراغ علی لکھتے ہیں پیغمبر نہ تو بے عیب ہوتا ہے اور نہ معصوم۔” (نعوذ باللہ ) جس کا اوپر حوالہ دیا جا چکا ہے۔مولوی چراغ علی صاحب نے “ تحقیق الجہاد ” 1884ء میں لکھی تھی اور 1885ء میں شائع ہوئی تھی۔جبکہ حضرت مرزا صاحب کی کتاب “براہین احمدیہ ملقب به بر ابين الاحمدیہ علی حقیت کتاب اللہ القرآن و النبوۃ الحمدیہ حصہ سوم 1882ء میں چھپ چکی تھی اور یہ کتاب یقینا مولوی چراغ علی کو بھی بھجوائی گئی ہو گی کیونکہ موصوف اس کے مالی معاونین میں شامل تھے۔حضرت مرزا صاحب نے براہین احمدیہ حصہ اول میں مولوی چراغ علی کی مالی امداد کا ذکر بھی کیا ہے۔لیکن ایسے لگتا ہے کہ مولوی عبد الحق کی طرح مولوی چراغ علی نے براہین احمدیہ حصہ سوم کا جیسے مطالعہ ہی نہ کیا ہو جس میں حضرت مرزا صاحب نے برہمو سماج کے اس خیال فاسد کو بکلی در ہم برہم کر دیا ہے کہ : اگر تحمیل معرفت الہامی کتاب پر ہی موقوف ہے تو اس صورت میں بہتر تھا کہ تمام بنی آدم کو الہام ہوتا۔۔"33 اور اس وسوسہ کے جواب میں علاوہ دیگر امور کے حضرت مرزا صاحب نے صفحہ نمبر 181 تا 198 میں مولوی چراغ علی کے خیال کے بر عکس پیغمبروں کا بے عیب و معصوم ہونا بہ دلائل عقلیہ و نقلیہ ثابت کیا ہے۔یہاں ہم حضرت مرزا صاحب کے جواب میں سے عصمت انبیاء سے متعلق کچھ عبارتیں درج کرتے ہیں:۔منجملہ اہل کتاب عیسائیوں کا یہ خیال ہے کہ انبیاء کے لئے جو وحی اللہ کے منزل علیہ ہیں تقدس اور تنزہ اور عصمت اور کمال محبت الہیہ حاصل نہیں۔کیونکہ عیسائی لوگ اصول حقہ کو کھو بیٹھے ہیں اور ساری صداقتیں صرف اس خیال پر قربان کر دی ہیں کہ کسی طرح حضرت مسیح خدا بن جائیں اور کفارہ کا مسئلہ جم جائے۔سو چونکہ نبیوں کا معصوم اور مقدس ہونا