بیت بازی — Page 832
832 124 میری رات دن بس یہی اک صدا ہے کہ اس عالم کون کا اک خُدا ہے ۱۷۷ مسند کی آرزو نہیں؛ بس جوتیوں کے پاس درگہ میں اپنی مجھ کو بھی اک بار، باردے میرے دل و دماغ پہ چھا جا؛ او خُوبرُو! اور ماسوا کا خیال بھی دل سے اُتار دے نہیں کہ چین ملے وصل کے ہوا فُرقت میں کوئی دل کو تسلی ہزار دے IZA ۱۷۹ ۱۸۰ ۱۸۱ ۱۸۲ ۱۸۳ ممکن مجھ کو تیری مخمور نگاہوں کی قسم ہے اک بار ادھر دیکھ کے مستانہ بنادے مجھے قید محبت؛ لاکھ آزادی سے اچھی ہے کچھ ایسا کر کہ پابند سلاسل ہی رہوں ساقی نہ دیکھی کامیابی آگہی نے مرادیں کوٹ لیں دیوانگی نے مری جانب یونہی دیکھا کسی نے نظر آنے لگے ۱۸۴ مزاج یار کو برہم کیا ۱۸۵ ۱۸۶ ۱۸۸ ١٩٠ مهاجر منٹ منٹ ہے ہر جا دفینے میری الفت مری دل بستگی نے بننے والو! بھی سوچا کہ پیچھے چھوڑے جاتے ہو مدینے میں اس کے ناز روز اُٹھاتا ہوں جان پر میرے کبھی تو ناز اُٹھایا کرے کوئی ۱۸۷ محفل میں قصے عشق کے ہوتے ہیں صبح و شام حُسن اپنی بات بھی تو سُنایا کرے کوئی میرا امتحان لیتے ہیں قدم قدم پہ مصیبت یہ آن پڑتی ہے ۱۸۹ میں دل و جاں بخوشی اُن کی نذر کر دیتا ماننے والے اگر ہوتے وہ سوغاتوں سے میرا مقدور کہاں؛ شکوہ کروں اُن کے حُضور مجھ کو فُرصت ہی کہاں؛ اُن کی مناجاتوں سے مارے، جلائے ، کچھ بھی کرے مجھ کو اس سے کیا مجلس میں اُس کے پاس رہوں؛ مدعا یہ ہے مٹ جائے میرا نام؛ تو اس میں حرج نہیں قائم جہاں میں عزت و شوکت رہے تری میداں میں شیر کر کی طرح لڑ کے جان دے گردن کبھی نہ غیر کے آگے جھکے تیری ۱۹۴ مجھے دلگیر جب بھی دیکھتے ہیں بیٹھا لیتے ہیں پاس اپنے بلا کے میرے کانوں میں آوازیں خُدا کی تیرے کانوں میں ایچ بم کے دھماکے ۱۹۱ ۱۹۲ ۱۹۳ ۱۹۵ ۱۹۶ ۱۹۷ مری امید وابسته فلک ملا تجھ کو نہ کچھ دُنیا میں آکے تری نظروں میں اس دُنیا کے خاکے نہ تو دیکھے گا راحت؛ یاں سے جا کے