بیت بازی — Page 70
70 70 ۱۵۷ پھر اُس کی میٹھی میٹھی صداؤں کو تم سنو پھر اپنے دل کو وصل سے؛ تم شادماں کرو پہلے ان آرزوؤں کا کوئی ساماں کر دیں دل میں پھر اس شہ خوبان کو مہماں کر دیں ۱۵۸ ۱۵۹ ۱۶۰ ۱۶۱ ۱۶۲ ۱۶۴ ۱۶۵ ۱۶۶ ۱۶۷ اُسے وہی خوب جانتا پڑے بلا جس کے سر پہ آ کر تماشا کیا دیکھتے ہو صاحب! دل کو دکھا دکھا کر ہے ہمارے پکی مریم کافور ہو تم زخموں پر دل بیمار کے درمان و دوا ہو جاؤ پارہ ہائے دل اُڑے جاتے ہیں کیوں جگر کا زخم کیوں خونبار ہے پاک ہے ہر طرح کی کمزوریوں سے اُس کی ذات اور مجھ میں پائے جاتے ہیں نقائص صد ہزار پر وہ عالی بارگہ ہے؛ منع فضل و کرم کیا تعجب ہے؛ جو مجھ کو بھی بنادے کامگار پر خُدا ہوگا تمھارا؛ ہر مصیبت میں معین شر سے دُشمن کے بچائے گا؛ تمھیں لیل و نہار پر جو مولیٰ کی رضا کے واسطے کرتے ہیں کام اور ہی ہوتی ہے؛ اُن کی عزّ وشان و آب و تاب پاؤ گے تم فتح وظفر ؛ ہوں گے تمہارے بحروبر آرام سے ہوگی بسر ہوگا خُدا مدنظر پیالہ بھرا لب بلب ہے ٹھوکر 6 ہی اک درکار ہے پڑی ہے کیسی مصیبت؛ یہ غنچہ دیں پر رہی وہ شکل و شباہت؛ نه رنگ و بُو باقی پوچھتا ہے مجھ سے وہ؛ کیونکر تیرا آنا ہوا کیا کہوں اُس سے کہ میں تیرے طلب گاروں میں ہوں یہ ہے قہر ظلم کر کے وہ خود ہمیں سے ہیں ہوتے؛ طالب داد پوری ہوگی آرزو رکس وقت کب پر آئے گی ہماری مراد پھر پر نہ لا خوف دل میں تو کوئی کیونکہ ہے ساتھ تیرے ربّ عِباد پھیلائیں گے صداقت اسلام؛ کچھ بھی ہو جائیں گے ہم؛ جہاں بھی کہ جانا پڑے ہمیں پروا نہیں؛ جو ہاتھ سے اپنے ہی، اپنا آپ حرف غلط کی طرح مٹانا پڑے ہیں پڑے ہیں پیچھے جو فلسفے کے مگر ہیں ہم رہرو طَرِیقت؛ انہیں خبر کیا ہے، کہ عشق کیا ہے عمار الفت ہی کھائیں گے ہم پاس ہو مال؛ تو دو اُس سے زکوۃ و صدقہ فکر مسکیں رہے تم کو، غم ایام نہ ہو ۱۶۸ ۱۶۹ ۱۷۰ 121 ۱۷۲ ۱۷۳ ۱۷۴ ۱۷۵