بیت بازی

by Other Authors

Page 752 of 871

بیت بازی — Page 752

752 ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ 22 2A 29 ۸۰ ΔΙ ۸۲ ۸۳ ΛΥ M برکتیں دینا؛ گالیاں سننا اب یہی کاروبار رہتا ہے بھنور میں پھنس رہی ہے، گو نہیں ہے خوف ناؤ کو بچایا جس نے نوح کو تھا؛ ناخُدا وہی تو ہے بے ہنر کو پوچھتا ہی کون ہے دنیا میں آج ہے کوئی تو تجھ میں جو ہر تو اگر محسود ہے باپ کی سُنت کو چھوڑا؟ ہو گیا صید ہوا ابن آدم بارگہ سے اس لیے مطرود ہے بجلیوں کی چمک میں مجھ کو نظر جلوے اس کی ہنسی کے آتے تھے بھڑک اُٹھتی ہے پھر ، شمع جہاں کی روشنی یک دم غلام سے سوئے ہستی جب کوئی پروانہ آتا ہے بچھڑے ہوؤں کو جنت فردوس میں ملا جسر صراط سے بہ سہولت گزار دے بدل کے بھیس معالج کا؛ خود وہ آتے ہیں زمانہ کی جو طبیعت؛ کبھی بگڑتی بار مل جاتا ہے مجلس میں کسی کی دو پہر دن ہوئے جاتے ہیں روشن مرے ؛ اب راتوں سے بُوئے چمن اُڑائے پھرے جو؛ وہ کیا صبا لائی ہے بُوئے دوست اُڑا کر؛ صبا یہ ہے بے حد وہ ہے بھٹکتے پھر رہے ہو؟ سب جہاں میں کیا کیا تم نے دلبر کو بھلا کے و بے شمار میرے گناہ کس طرح دیں گے وہ حساب مجھے ۸۴ بس کے آنکھوں میں؛ دل میں گھر کر کے کر گئے یوں لا جواب مجھے بُرا جما کہ بھلا اپنی اپنی قسمت ہے ہمارے دل پہ ترا نقش کچھ کھا تو سہی بے کار رکھ کے سینہ میں دل ؛ کیا کروں گا میں آخر کسی کے کام تو آنا ہی چاہیئے بے عیب چیز لیتے ہیں؛ تحفہ میں خُوبرُو داغ دل انیم؛ مٹانا ہی چاہئے بڑھتی رہے خدا کی محبت؛ خدا کرے حاصل ہو تم کو دید کی لذت؛ خدا کرے بڑھتی رہے ہمیشہ ہی طاقت؛ خُدا کرے جسموں کو چھونہ جائے نقاہت؛ خُدا کرے بکیوں سے پہلو اپنا بچاتے رہو مدام تقویٰ کی راہیں طے ہوں بعجلت ؛ خُدا کرے بطحا کی وادیوں سے؛ جو نکلا تھا آفتاب بڑھتا رہے وہ نور نبوت خُدا کرے بسر کر عُمر کو اپنی؛ نہ سوسوکر، نہ غفلت سے کہ ملتی ہے ہر اک عزت؛ اطاعت سے عبادت سے بیٹھ جاتا ہوں وہیں؟ تھام کے اپنے سر کو جب کبھی دل میں میرے؛ دَرد اُٹھا کرتا ہے ۸۸ ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳