بیت بازی — Page 51
115656 ۳۲ ۳۳ ۳۴ بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا جو ہوگا ایک دن محبوب میرا بنائی تو نے پیارے میری ہر بات دکھائے تُو نے احساں اپنے دن رات بشارت کیا ہے؟ اک دل کی غذا دی فسبحان الذى اخزى الا عادى بدی کا پھل؛ بدی اور نامرادی فسبحان الذى اخرى الا عادي بیاں اس کا کروں؛ طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے ۳۷ بسر کرتے ہو غفلت میں جوانی مگر دل میں یہی تم نے ہے ۳۵ ۳۶ ۳۸ ۴۰ ۴۱ ۴۳ باغ احمد سے ہم نے پھل کھایا میرا ٹھانی بستاں؛ کلام احمد ہے ۳۹ بخلوں سے یارو! باز بھی آؤ گے یا نہیں خو اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں بدگماں کیوں ہو خدا کچھ یاد ہے افترا کی کب تلک بنیاد ہے باطن سیہ ہیں جن کے؛ اس دیں سے ہیں وہ منکر پر اے اندھیرے والو! دل کا دیا یہی ہے ۴۲ بس اے میرے پیارو! عقبیٰ کو مت بسارو اس میں کو پاؤ یارو! بدرالد بجے یہی ہے برباد جائیں گے ہم؟ گر وہ نہ پائیں گے ہم رونے سے لائیں گے ہم؛ دل میں رجا یہی ہے بدتر ہر ایک بک سے وہ ہے؛ جو بد زباں ہے جس دل میں یہ نجاست؛ بیت الخلا یہی ہے بھلا تم خود کہو انصاف سے صاف کہ ایشر کے یہی لائق ہیں اوصاف بہت ہم نے بھی اس میں زور مارا خیالستان کو جانچا ہے بدی پر غیر کی ہر دم نظر ہے مگر اپنی بدی سے بے خبر ہے بہت بڑھ بڑھ کے باتیں کی ہیں تو نے اور چھپایا حق مگر یہ یاد رکھ؛ اک دن ندامت آنے والی ہے تھے آٹھ اور کچھ مہینے بلانے والا ہے سب سے پیارا؛ ۴۴ ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۰ ۵۱ ۵۲ برس کہ جب خدا نے اسے بلایا اسی سارا اے دل تو جاں فدا کر بن دیکھے دل کو دوستو! پڑتی نہیں ہے گل قصوں سے کیسے پاک ہو یہ نفس پر کل دن دیکھے کیسے پاک ہو انساں گناہ سے اس چاہ سے نکلتے ہیں لوگ اُس کی چاہ سے دن دیکھے کس طرح کسی مہ رخ پر آئے دل کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل پہ