بیت بازی — Page 52
52 ۵۳ ۵۴ ۵۵ ۵۶ ۵۸ ۵۹ ۶۰ ۶۱ ۶۲ ۶۳ ۶۴ بکتر بنو ہر ایک سے؛ اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دارالوصال میں بھر گیا باغ اب تو پھولوں سے آؤ بلبل چلیں! کہ وقت آیا ہے آشکار بندوں میں اپنے بھید خدا کے ہیں صد ہزار تم کو نہ علم ہے، نہ حقیقت بدبخت تر تمام جہاں سے وہی ہوا جو ایک بات کہہ کے ہی دوزخ میں جا گرا ۷ بعضوں کی بدعا میں بھی تھا ایک انہماک اتنی دعا؛ کہ گھس گئی سجدے میں ان کی ناک بد گمانی سے تو رائی کے بھی بنتے ہیں پہاڑ پر کے اک ریشہ سے ہو جاتی ہے گؤوں کی قطار بد گمانی نے تمہیں مجنوں و اندھا کر دیا ورنہ تھے میری صداقت پر براہیں بے شمار باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھیلا آئی ہے بادِ صبا گلزار سے مستانہ وار بے معاون میں نہ تھا تھی نصرت حق میرے ساتھ فتح کی دیتی تھی وحی حق بشارت بار بار بحث کرنا تم سے کیا حاصل؛ اگر تم میں نہیں روح انصاف وخدائرسی؛ کہ ہے دیں کا مدار بات پھر یہ کیا ہوئی؛ کس نے میری تائید کی خائب و خاسر رہے تم ؛ ہو گیا میں کامگار بے خدا، بے زهد و تقوی؛ بے دیانت، بے صفا بن ہے یہ دنیائے دُوں؛ طاعوں کرے اس میں شکار ۶۵ بن کے رہنے والو! تم ہرگز نہیں ہو آدمی کوئی ہے روبہ؛ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار باغ میں تیری محبت کے عجب دیکھے ہیں پھل ملتے ہیں مشکل سے ایسے سیب اور ایسے انار بے خبر دونوں ہیں؟ جو کہتے ہیں بد یا نیک مرد میرے باطن کی نہیں ان کو خبر اک ذرہ وار بات سب پوری ہوئی؛ پر تم وہی ناقص رہے باغ میں ہو کر بھی قسمت میں نہیں دیں کے ثمار بس یہی ہے رمز ؛ جو اس نے کیا منع از جہاد تا اُٹھا دے دیں کی رہ سے؛ جو اٹھا تھا اک غبار باغ مرجھایا ہوا تھا؟ گر گئے تھے سب ثمر میں خدا کا فضل لایا؛ پھر ہوئے پیدا ثمار بندہ درگاہ ہوں؛ اور بندگی سے کام ہے کچھ نہیں ہے فتح سے مطلب ؛ نہ دل میں خوف ہار ۷۲ بستر راحت کہاں ان فکر کے ایام میں غم سے ہر دن ہو رہا ہے بدتر از شب ہائے تار بے خدا؛ اس وقت دنیا میں کوئی مامن نہیں یا اگر ممکن ہو؛ اب سے سوچ لو راہِ فرار بے خدا؛ کوئی بھی ساتھی نہیں تکلیف کے وقت اپنا سایہ بھی اندھیرے میں جدا ہوتا ہے ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ 2۔21 ۷۳ ۷۴