بیت بازی — Page 520
520 ۴۳ ۴۵ ۴۶ ہاں ہاں! یہ کیا؟ کہ بیٹھ رہا جی کو چھوڑ کر بھائی! خدا کے واسطے؛ ایسا غضب نہ کر کلام طاهر ہر لحظہ میرے در پئے آزار ہیں وہ لوگ جو تجھ سے میرے قُرب کی رکھتے نہیں خبر ہوتی رہی رُسوا کہیں دختر کہیں مادر دیکھے ہیں تری آنکھ نے وہ ظلم؛ کہ جن پر ہمیں بٹھلا کے بڑی تیزی سے پھر جاتا تھا اپنے بچوں کو لئے ساتھ ؛ وہ سوئے بازار کلام محمود ۴۷ ہندوستاں سے اُٹھ گیا تھا علم اور ہنر یاں آتا تھا نہ عالم و فاضل کوئی نظر ہاتھ جوڑوں، یا پڑوں پاؤں؛ بتاؤ کیا کروں دل میں بیٹھا ہے؛ دل میں بیٹھا ہے؛ مگر آتا نہیں مجھ کو نظر جگر کے ٹکڑے کئے ہیں کس نے؛ ۴۸ ۴۹ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۵ ۵۶ ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ ہے مارا اک کو ر لا ر لا کر ؛ تو دوسرے کو ہنسا ہنسا کر یہ دل کی حالت دکھا دکھا کر ہیں چاندنی راتیں لاکھوں گذریں؛ وہ عہد جو مجھ سے کر چکا ہے؛ کھیلی نہ دل کی گلی کبھی بھی بھی تو اے بے وفا! وفا کر ہزار کوشش کرے کوئی پر وہ مجھ سے عہدہ برآنہ ہوگا جسے ہو کچھ زعم آزمالے؛ ہوں کہتا ڈنکا بجا بجا کر ہمارے گھر میں اُس نے بھر دیا نور ہر اک ظلمت کو ہم سے کر دیا دُور ہماری فتح و نصرت دیکھ کر غم و رنج و مصیبت سے ہوئے پور ہماری رات بھی نور افشاں ہماری صبح خوش ہے؛ شام مسرور ہے ہماری اے خُدا! کردے وہ وہ تقدیر کہ جس کو دیکھ کر حیراں ہو تدبیر ہے بہار باغ و گل مثل خزاں افسردہ گن ہے جہاں میری نظر میں مِثلِ شب تاریک وتار ہو گیا میری تمناؤں کا پودا خشک کیوں کیا بلا اس پر پڑی؛ جس سے ہوا بے برگ وبار حسیں کو حُسن بخشا ہے اُسی دلدار نے مر گل و گلزار نے پائی اُسی سے ہے بہار ہر نگاہ فتنہ گر نے اُس سے پائی ہے جلا ورنہ ہوتی بختِ عاشق کی طرح تاریک وتار ہائے! پر اُس کے مقابل میں نہیں میں کوئی چیز وہ سراپانور ہے؛ میں مضغہ تاریک و تار ہر