بیت بازی

by Other Authors

Page 475 of 871

بیت بازی — Page 475

475 11 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ 12 ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ آشکار بندوں میں اپنے بھید خدا کے ہیں صد ہزار تم کو نہ علم ہے؛ نہ حقیقت ہے بحث کرنا تم سے، کیا حاصل؛ اگر تم میں نہیں روحِ انصاف وخدائرسی؛ کہ ہے دیں کا مدار ؛ بات پھر یہ کیا ہوئی؛ کس نے مِری تائید کی خائب و خاسر رہے تم ؛ ہو گیا میں کامگار بے خدا، بے زہد و تقویٰ بے دیانت، بے صفا بکن ہے یہ دنیائے دوں طاعوں کرے اس میں شکار بن کے رہنے والو! تم ہرگز نہیں ہو آدمی کوئی ہے روبہ، کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار باغ میں تیری محبت کے عجب دیکھے ہیں پھل ملتے ہیں مشکل سے ایسے سیب اور ایسے انار بے خبر دونوں ہیں؟ جو کہتے ہیں بد یا نیک مرد میرے باطن کی نہیں ان کو خبر اک ذرہ وار بات سب پوری ہوئی ؟ پر تم وہی ناقص رہے باغ میں ہو کر بھی، قسمت میں نہیں دیں کے ثمار بس یہی ہے رمز؛ جو اس نے کیا منع از جہاد تا اُٹھا دے دیں کی رہ سے؛ جو اُٹھا تھا اک غبار باغ مرجھایا ہوا تھا؛ گر گئے تھے سب ثمر میں خدا کا فضل لایا؛ پھر ہوئے پیدا ثمار بندہ درگاہ ہوں؛ اور بندگی سے کام ہے کچھ نہیں ہے فتح سے مطلب ؛ نہ دل میں خوف ہار در عدن بھیج درود اُس محسن پر تو دن میں سوسوبار پاک محمد مصطفی نبیوں کا سردار بلبل ہوں؛ صحن باغ سے دور اور شکستہ پر پروانہ ہوں چراغ سے دور اور شکستہ پر بڑے درد سم کر مصیبت اُٹھا کر ملایا تمہیں اس دنیا میں لا کر بچے ہنستے ہیں خوشی سے؛ تو بڑے ہیں دلشاد جذبہ شوق کے ظاہر ہیں جبیں پر آثار کلام طاهر ۲۲ بے شمار گھر جلا کے؛ جب پہنچی شعلہ دن وہ اس کے گھر سرد پڑ گئی؟ اور ہوگئی ڈھیر آپ اپنی راکھ پر ۲۷ ۲۸ ۲۹ کلام محمود بات کیا ہے؛ گر وہ میری آرزو پوری کرے دے میری جاں کو تسلی ؛ دے مرے دل کو قرار بے ملے اُس کے تو جینا بھی ہے بد ترموت سے ہے وہی زندہ؛ جسے اُس کا ملے قرب وجوار بس یہی اک راہ ہے، جس سے کہ ملتی ہے تجات بس یہی ہے اک طریقہ؛ جس سے ہو عز ووقار