بیت بازی — Page 469
469 ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۶ آفتاب صبح نکلا؛ اب بھی سوتے ہیں یہ لوگ دن سے ہیں بیزار اور راتوں سے وہ کرتے ہیں پیار ان کی قسمت میں نہیں دیں کیلئے کوئی گھڑی ہوگئے مفتون دنیا؟ دیکھ کر اس کا سنگار انبیاء کے طور پر محبت ہوئی ان پر تمام ان کے جو حملے ہیں؛ ان میں سب نبی ہیں حصہ دار اس قدر یہ زندگی کیا افترا میں کٹ گئی پھر عجب تریہ؛ کہ نصرت کے ہوئے جاری بکار اس قدر نصرت تو کاذب کی نہیں ہوتی کبھی گر نہیں باؤر؛ نظیریں اس کی تم لاؤ دوچار اپنے ایماں کو ذرا پردہ اٹھا کر دیکھنا مجھے کو کافر کہتے کہتے ؛ خود نہ ہوں از اہل نار اے فقیہو عالمو ! مجھ کو سمجھ آتا نہیں یہ نشانِ صدق پا کر؛ پھر یہ کیں اور یہ نقار اب ذرا سوچو! کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے اس قدر امر نہاں پر کسی بشر کو اقتدار ایسے دل پر داغ لعنت ہے ازل سے تا ابد جو نہیں اس کی طلب میں؛ بے خود و دیوانہ وار ۷۵ ایسے مہدی کیلئے میداں کھلا تھا قوم میں پھر تو اس پر جمع ہوتے ؛ ایک دم میں صد ہزار آگ بھی پھر آگئی؛ جب دیکھ کر اتنے نشاں قوم نے مجھ کو کہا؛ کذاب ہے اور بد شعار ان دلوں کو خود بدل دے؛ اے مرے قادر خدا! و تو رب العلمیں ہے؛ اور سب کا شہریار اس جہاں میں؛ خواہش آزادگی بے سود ہے اک تری قید محبت ہے؛ جو کر دے رستگار اے خدا! اے چارہ ساز درد! ہم کو خود بچا اے میرے زخموں کے مرہم! دیکھ میرا دل فگار اے مرے پیارے جہاں میں تو ہی ہے اک بے نظیر جو ترے مجنوں؛ حقیقت میں وہی ہیں ہوشیار اس جہاں کو چھوڑنا ہے تیرے دیوانوں کا کام نقد پا لیتے ہیں وہ؛ اور دوسرے امیدوار ایک کانٹا بھی اگر دیں کیلئے ان کو لگے بیچ کر اس سے وہ بھاگیں؛ شیر سے جیسے حمار اے مرے پیارے! بتا تو رکس طرح خوشنود ہو نیک دن ہوگا وہی؛ جب تجھ پہ ہوویں ہم شار ابن مریم ہوں؛ مگر اُترا نہیں میں چرخ سے نیز مہدی ہوں؛ مگر بے تیغ اور بے کارزار اس کے پانے کا؛ یہی اے دوستو ! اک راز ہے کیمیا ہے؛ جس سے ہاتھ آجائیگا ذربے شمار اس سے خود آکر ملے گا؛ تم سے وہ پارازل اس سے تم عرفانِ حق سے پہنو گے پھولوں کے ہار افترا کی ایسی دُم لمبی نہیں ہوتی کبھی جو ہو مثل مدت فخر الرسل فخر الخيار LL 21 ۷۹ ۸۰ Al ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ۸۶ AL