بیت بازی

by Other Authors

Page 34 of 871

بیت بازی — Page 34

34 ۶۲۳ ۶۲۴ ۶۲۵ ۶۲۶ ۶۲۸ ۶۲۹ ۶۳۰ ۶۳۲ اک لفظ بھی زباں پہ نہ لاتے؛ تو خوب تھا دُنیا سے اپنا عشق چھپاتے؛ تو خوب تھا آب حیات پی کے؛ خضر تم نے کیا کیا تم اس کی رہ میں خون کنڈھاتے ؛ تو خوب تھا اے کاش! عقل عشق میں دیتی ہمیں جواب دیوانه وار شور مچاتے؟ تو خوب تھا اپنی آنکھوں سے کئی بار ہے سُورج کا بھی پتا اُلفت میں تیری؛ میں نے پگھلتا دیکھا ۲۷ آہ و فغان کرتے ہوئے تھک گیا ہوں میں نالہ کہ جو رسا تھا میرا نارسا ہوا اس دردو غم میں آنکھیں تلک دے گئیں جواب آنسو تلگ بہانا؟ انہیں ناروا ہوا و اک عرصہ ہوگیا ہے؛ کہ میں سوگوار ہوں بیداد ہائے دہر سے زار و نزار ہوں افسوس ہے؛ کہ اس کو ذرا بھی خبر نہیں جس سنگ دل کے واسطے یاں مر مٹا ہوں میں ۱۳۱ آؤ محمود! ذرا حال پریشاں کر دیں اور اس پردے میں دُشمن کو پشیماں کر دیں ایک ہی وقت میں چھپتے نہیں سُورج اور چاند یا تو رُخسار کو؛ یا ابڑو کو عریاں کر دیں ۶۳۳ آج بے طرح چڑھی آتی ہے؛ لعل لب پر ان کو کہہ دو! کہ وہ زُلفوں کو پریشاں کر دیں ۶۳۴ آدمی ہو کے تڑپتا ہوں؛ چکوروں کی طرح کبھی بے پردہ اگر وہ؛ رُخ تاباں کر دیں ۷۳۵ اک دفعہ دیکھ چکے موسیٰ، تو پردہ کیسا موسی؟ تو پردہ کیسا ان سے کہہ دو! کہ وہ اب چہرہ کو عریاں کر دیں ایک دن تھا کہ محبت کے تھے مجھ سے اقرار مجھ کو تو یاد ہیں سب؛ آپ کو کیا یاد نہیں میجا! تیرے سودائی جو ہیں ہوش میں بتلا کہ ان کو لائے کون ۱۳۸ اے مسیحا! ہم سے گو تو چھٹ گیا دل سے پر اُلفت تری؛ چھڑوائے کون 19 اور اُسے ہے قوم کا غم ؛ اور میں دنیا سے بچتا ہوں میں اب اس دل کے ہاتھوں سے بہت مجبور رہتا ہوں اُسی کے جلوہ ہائے مختلف پر مرتے ہیں عاشق وہی گل میں ،و ہی مل میں ؛و ہی ہے شمع محفل میں ؤ اس میں ہوتی ہے مجھے دید رخ جاناں نصیب میری بیداری سے بڑھ کر ہو نہ میرا خواب کیوں امت احمد نے چھوڑی ہے صراط مستقیم کیوں نہ گھبراؤں نہ کھاؤں دل میں پیچ و تاب کیوں امر معروف کو تعویذ بناؤ جاں کا بے کسوں کیلئے تم عقدہ کشا ہو جاؤ الہی! آپ کی درگہ سے گر پھیرا خالی تو پھر جو دشمن جاں ہیں؛ وہ منہ لگائیں گے کب ۶۳۶ ۶۳۷ I ۶۴۰ ۶۴۲ ۶۴۳ ۶۴۴