بیت بازی

by Other Authors

Page 33 of 871

بیت بازی — Page 33

33 33 ۶۰۱ ۶۰۲ ۶۰۳ ۶۰۴ ۶۰۵ ۶۰۶ ۶۰۷ ۶۰۸ ۶۱۰ ۶۱۱ تسکس احسان اس کے ہم پہ ہیں؟ بے حد و بیکراں جو گن سکے انھیں؛ نہیں ایسی کوئی زباں اس سلطنت کی؛ تم کو بتاؤں وہ خوبیاں جن سے کہ اُس کی مہبر وعنایات ہوں عیاں اس کے سبب سے ہند میں امن و امان ہے ئے شور و شر کہیں ہے؛ نہ آہ و فغان ہے اپنے پرائے چھوڑ کر سب ہو گئے الگ ہم بے کسوں پر آخر انہوں نے ہی کی نظر انگریزوں نے ہی؛ بے گس و بد حال دیکھ کر کھولے ہیں علم وفضل کے ہم پر ہزار در القصه ؛ سلطنت بڑی مہربان ہے آتی نہیں جہان میں ایسی کوئی نظر اور اس سے بڑھ کے؛ رحم خدا کا یہ ہم پہ ہے عیسی مسیح سا ہے دیا؟ ہم کو راہبر امام وقت کا؛ لوگو کرو نہ تم انکار! جو جھوٹے ہوتے ہیں؛ وہ پاتے اقتدار نہیں ۲۰۹ اگر پوچھے کوئی؛ عیسی کہاں ہے؟ تو کہہ دو اُس کا مسکن قادیاں ہے اُسی کے عشق میں نکلے مری جاں کہ یاد یار میں بھی؛ اک مزا ہے اسی سے؛ میرا دل پاتا ہے وہی آرام میری روح کا ہے ابھی طاعون نے چھوڑا نہیں ملک نئی اور آنے والی اک وبا ہے ۶۱۳ آدمی تقوی سے آخر کیمیا ہو جائے گا جس مس دل سے چھوٹے گا؛ وہ طلا ہو جائے گا اس کی باتوں سے ہی ٹوٹے گا یہ دجالی طلسم اس کا ہر ہر لفظ؛ موسی" کا عصا ہو جائے گا آپ روحانی سے جب سیراب ہوگا گل جہاں پانی پانی شرم سے؛ اک بے کیا ہو جائے گا اس کی ڈوری کو بھی پاتا ہوں مقام قرب میں خواب میں جیسے کوئی سمجھے؛ کہ میں بیدار ہوں اب تو جو کچھ تھا؛ حوالے کر چکا دِلدار کے وہ گئے دن؛ جبکہ کہتا تھا، کہ میں دلدار ہوں اے میرے مولیٰ میرے مالک ! میری جاں کی سپر مُبتلائے رنج وغم ہوں؛ جلد لے میری خبر امن کی کوئی نہیں جا؟ خوف دامن گیر ہے سانپ کی مانند مجھ کو کاٹتے ہیں بحر و بر الہی! پھر سبب کیا ہے؟ کہ درماں ہو نہیں سکتا ہمارا درد دل جب تجھ سے پنہاں ہو نہیں سکتا اس بے وفا سے دل نہ لگاتے؛ تو خُوب تھا مٹی میں آبرو نہ ملاتے تو خُوب تھا اک غمزدہ کو چہرہ دکھاتے تو خُوب تھا روتے ہوئے کو آکے ہنساتے؛ تو خُوب تھا ۶۱۲ ۶۱۴ ۶۱۵ ۶۱۶ ۶۱۸ ۶۱۹ ۶۲۰ ۶۲۱ ۶۲۲