بیت بازی

by Other Authors

Page 24 of 871

بیت بازی — Page 24

24 24 ۴۲۶ ۴۲۷ ۴۲۸ ۴۲۹ ۴۳۰ ۴۳۱ ۴۳۳ آنکھوں سے جو لگی ہے جھڑی تھم نہیں رہی آکر ٹھہر گیا ہے جو ساون اُداس ہے مجھے اپنا پرستار بنانے والے! اے جوت اک پریت کی ہر دے میں جگانے والے! اے محبت کے امر دیپ جلانے والے! پیار کرنے کی مجھے ریت سکھانے والے! اس طرف بھی ہو کبھی کاشف اسرار نگاہ ہم بھی ہیں ایک تمنا کے چھپانے والے اے میرے درد کو سینے میں بسانے والے! اپنی پلکوں پہ مرے اشک سجانے والے! آہیں تھیں؛ کہ تھیں ذکر کی گھنگھور گھٹائیں نالے تھے؛ کہ تھے سیل رواں؛ حمد و ثنا کے ۴۳۲ اُکسانے کی خاطر تیری غیرت تیرے بندے کیا تجھ سے دُعا مانگیں ستم گر کو سُنا کے اتنا تو کریں اُن کو بھی جا کر کبھی دیکھیں ایک ایک کو اپنا کہیں؛ سینے سے لگا کے اے شاہ مکی و مدنی سید الوری تجھ سا مجھے عزیز نہیں؟ کوئی دوسرا اک رات مفاسد کی وہ تیرہ و تار آئی جو نور کی ہر مشعل؛ ظلمات وار آئی اُف یہ تنہائی تیری الفت کے مٹ جانے کے بعد تیری فُرقت میں تو اتنا رنج تنہائی نہ تھا ایسے طائر بھی ہیں جو کہ خود؛ ان کی بگڑی بنا میرے مشکل کشا! اپنے ہی آشیانے کے تنکوں میں محصور ہیں چارہ کر کچھ غم بے کساں کیلئے تمھارے ہے ۴۳۴ ۴۳۵ ۴۳۶ ۴۳۷ ۴۳۹ ۴۴۱ عہد نو نام چلو ۱۳۸ آگے بڑھ کر قدم تو لو دیکھو اک پیسہ پیسہ جوڑ کر بھائیوں نے شوق سے سوچا تھا یہ کہ سُوجی کا حلوہ بنائیں گے ۴۴۰ آداب محبت کے غلاموں کو سکھا کے کیا چھوڑ دیا کرتے ہیں دیوانہ بنا کے؟ اس بار جب آپ آئیں ؛ تو پھر جا کے تو دیکھیں کر گزروں گا کچھ ؛ اب کے ذرا دیکھیں تو جا کے الگ نہیں کوئی ذات میری تمہی تو ہو کائنات میری تمہاری یادوں سے ہی معنون ہے زیست کا انصرام کہنا اے میرے سانسوں میں بسنے والو؛ خدا نے باندھا ہے جو تعلق؛ مدام کہنا ۴۴۲ ۴۴۳ بھلا جُدا کب ہوئے تھے مجھ سے رہے گا اُنکی قائم چاہت میرا مدعا بن گیا؛ بالیقیں اُنکا ساتھی خدا بن گیا؛ م م م میرا پیار اُن کی خاطر دعا بن گیا وہ بنائے گئے آسماں کیلئے