بیت بازی

by Other Authors

Page 23 of 871

بیت بازی — Page 23

23 23 ۴۰۵ اترا وہ ۴۰۶ پر خدا کوه فاران محمد موسیٰ کو نہ تھی جس کے دیدار کی یارائی اس دور کا یہ ساقی؛ گھر سے تو نہ کچھ لایا مے خانہ اسی کا تھا؛ مے اس کی تھی، جام اس کا ۴۰۷ اک میں بھی تو ہوں یا رب ! صیدہ دام اس کا دل گا تا ہے گن اس کے؛ کب جیتے ہیں نام اس کا گاتا لب آنکھوں کو بھی دکھلا دے؛ آنا لب بام اس کا کانوں میں بھی رس گھولے؛ ہر گام خرام اس کا اُس بام سے نور اترے نغمات میں ڈھل ڈھل کر نغموں سے اُٹھے خوشبو؛ ہو جائے سُرود عنبر اے میرے والے مصطفیٰ! اے سیدالوری اے کاش ہمیں سمجھتے نہ ظالم جدا جدا اے وہ؛ کہ مجھ سے رکھتا ہے پر خاش کا خیال اے آن کہ سوئے من بدویدی بضد تبر" ۴۰۸ ۴۰۹ ۴۱۰ ۴۱۲ از باغبان بترس که من شاخ مثمرم بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم ۴۱۳ آزاد تیرا فیض زمانے کی قید سے برسے ہے شرق و غرب پر یکساں ترا کرم ۴۱۴ اے کاش! مجھ میں قوتِ پرواز ہو؛ تو میں اُڑتا ہوا بڑھوں تیری جانب سوئے حرم ۴۱۵ آپ کے جلوۂ حسن کے آگے شرم سے نوروں والے بھاگے مہر و ماہ نے توڑ دیا دم صلى الله عليه وسلم اک جلوے میں آنافا نا؛ بھر دیا عالم، کر دیئے روشن اُتر دکھن پورب پچھم صلى الله عليه وسلم فانا؛ ۴۱۶ خاتم صلى الله عليه وسلم صلى الله عليه وسلم ۴۷ اول و آخر شارع و خاتم برسات کرم کی پیہم ۴۱۸ ۴۱۹ ۴۲۰ ۴۲۱ اک اس کے فیض نگاہ سے وحشی بن گئے حلم سکھانے والے معطی بن گئے شہرۂ عالم اس عالی دربار کے سائل اس کا ظہور، ظہور خدا کا ؛ دکھلایا یوں نور خدا کا بتکدہ ہائے لات ومنات پہ طاری کر دیا عالم ہو گا آنکھ اپنی ہی ترے عشق میں ٹپکاتی ہے وہ لہو؛ جس کا کوئی مول نہیں آج کی رات ۴۲۲ آہوں کا تھا بلا وا؛ پھولوں کی انجمن کو اور کھینچ لائے نالے مُرغان خوش لحن کو ۴۲۳ اُٹھو کہ ساعت آئی؛ اور وقت جا رہا ہے پر مسیح دیکھو، کب سے جگا رہا ہے اک باغباں کی یاد میں سرو و سمن اُداس اہل چمن فسردہ ہیں؟ گلشن اُداس ہے آزردہ گل بہت ہیں؛ کہ کانٹے ہیں شادکام برق تپاں نہال؛ کہ خرمن اُداس ہے ۴۲۴ ۴۲۵