بیت بازی — Page 361
361 در عدن دل میں ایمان ویقیں ہے؛ ہاتھ میں قرآن ہے تشنہ روحوں کو پلا دو شربت وصل و بقا دل سے خدا کا نقش محبت مٹا دیا اتنے بڑھے، کہ خوف بھی دل سے اُٹھا دیا کلام طاهر دن رات درود اس پر ؛ ہر ادنی غلام اُس کا پڑھتا ہے بصد منت؛ جیتے ہوئے نام اُس کا دل اُس کی محبت میں ہر لحظہ تھا رام اُس کا اخلاص میں کامل تھا؛ وہ عاشق تام اُس کا دیار مغرب سے جانے والو! دیار مشرق کے باسیوں کو کسی غریب الوطن مسافر کی چاہتوں کا سلام کہنا دیکھو اک شاطر دشمن نے کیسا ظالم کام کیا پھینکا مکر کا جال؛ اور طائر حق زیر الزام کیا دیکھو پھر تقدیر خدا نے کیسا اُسے ناکام کیا مکر کی ہر بازی اُلٹا دی؛ د جل کو طشت از بام کیا ولیس بدلیں لئے پھرتا ہوں؛ میرے من میں آن کسی میں آن کیسی ہے؟ اپنے دل میں اُس کی گتھا ئیں تن من دھن جس کے اندر تھا دل میں ہر لحظہ دھڑکتا یہ تمہارا احساں اُس کی ہر ضرب سے سینے میں اُجالا ہوتا دل دھڑکتے جو کبھی راہ میں ملتے سر عام بے دھڑک پیار کے اظہار کا دھڑ کا ہوتا دور اک عارض گیتی یہ ڈھلکتا ہوا اشک دیدہ شب سے أفق چھلکتا ہوتا دھوپ پار میں سائے دار؛ اُس کا پیار اور اندھیروں میں؛ اک دیا سا تھا دل میں گھر کر گیا؛ وہ دل کا چور دل نشیں کتنا دلربا دیدہ ہوش کھلا دیکھا تھا طرف پھر وہی خلا سا تھا ہر کلام محمود دین و دنیا میں بڑا ہو مرتبہ عمر و صحت بھی اسے کر تو عطا دیکھ کر اپنی یہ حالت اسے جب رحم آیا دیکھو انگلینڈ سے اس قوم کو یاں لے آیا دکھلا کے ہم کو تازہ نشانات و معجزات چهره خُدائے عزوجل کا دکھا دیا دشمن جانی جو ہوگا؛ آشنا ہو جائے گا یوم بھی ہوگا اگر ؛ گھر میں ہما ہو جائے گا 1۔۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۹ 2 Δ